یمن: القاعدہ کے 12 قیدی جیل توڑ کر فرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یمن کی فوج القاعدہ کے شدت پسندوں سے ملک کے مختلف حصوں میں نبردآزما ہے

یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع ایک جیل سے القاعدہ کے بارہ قیدی فرار ہوگئے ہیں۔

جیل توڑنے کی کارروائی انہوں نے دو دیگر قیدیوں کے ساتھ مل کر کی اور اس کے لیے انہوں نے چھ میٹر طویل سرنگ کھودی۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف بینک ڈکیتی اور سکیورٹی اہکاروں کو ہلاک کرنے کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا تھے۔

جون میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی یمن کے شہر مکلاّ کے مرکزی جیل پر دھاوا بولا تھا اور درجنوں قیدیوں کو چھڑوا کر لے گئے تھے۔

یمن کی فوج القاعدہ کے شدت پسندوں سے ملک کے مختلف حصوں میں نبرد آزما ہے۔

یمن میں گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی اور سیاسی بحران کے کئی محاذ کھل چکے ہیں جن ملک کے شمال میں شدت پسندی، جنوب میں علٰیحدگی پسندوں کی تحریک، ملک بھر میں انتخابات اور اصلاحات کے حق میں مظاہرے اور دارالحکومت صنعاء میں حریف دھڑوں میں جھڑپیں شامل ہیں۔

بتیس سال تک اقتدار میں رہنے والے یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے گزشتہ ماہ اپنا اقتدار اپنے نائب کو دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے تھے جس کے تحت وہ نوے دن میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔

یمن کی فوج اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے درمیان اب تک کی شدید جھڑپیں زنجیبار شہر میں ہوئیں ہیں جو صوبۂ ابیان کا حصہ ہے اور اس صوبے کا زیادہ تر علاقہ شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن میں القاعدہ کے مشتبہ شدت پسندوں کی وجہ سے پینتالیس ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں