سی آئی اے کے مبینہ اراکین کے نام ظاہر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حزب اللہ نے جمعہ کو لبنانی ٹی وی المنار پر ایسے افراد کے ناموں کو آشکار کیا

شیعہ اسلامی گروپ حزب اللہ نے لبنان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے چھپ کر مبینہ طور سے کام کرنے والے مشتبہ ارکان کے نام ظاہر کردیے ہیں۔

حزب اللہ نے جمعہ کو لبنانی ٹی وی المنار پر ایسے افراد کے ناموں کو آشکار کیا۔

سی آئی اے کے مشتبہ افسران اور مخبروں کے درمیان پیٹزا ہٹ اور سٹاربکس میں ملاقاتوں کی مبینہ ویڈیو انیمیشن بھی ٹی وی پر دکھائی گئی۔

تاہم سی آئی اے کی ترجمان نے کہا کہ ایجنسی ان ’کھوکھلے دعووں‘ پر تبصرہ نہیں کرے گی۔

المنار ٹی وی کا کہنا ہے کہ لبنان میں سی آئی اے کے دس افسران ہیں اور وہ ملک میں اپنی انٹیلی جنس کی سرگرمیوں کے لیے سفارتی ڈھال استعمال کررہے ہیں۔

لبنان اسرائیل کے شمال میں واقع ہے۔

سی آئی اے کی ترجمان جینیفر ینگبلڈ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ’ضوابط کے تحت ایجنسی ایسے کھوکھلے دعووں پر تبصرہ نہیں کرتی۔

اے پی نے سابق افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے ’ہوسکتا ہے کہ حزب اللہ نے سی آئی اے کے مبینہ اراکین کی تصاویر ایران بھی دے دی ہوں۔‘

حزب اللہ اور سی آئی اے کے درمیان ہونے والی جاسوسی کی جنگ کی یہ تازہ کڑی سامنے آئی ہے۔

اس برس کے اوائل میں حزب اللہ کے رہنماء شیخ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ان کے گروپ کے دو ارکان نے اعتراف کیا تھا کہ وہ امریکی خفیہ ادارے کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے۔

امریکہ نے بھی حزب اللہ کے دعووں کی نفی کی ہے۔ امریکہ پہلے ہی حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سنہ دو ہزار نو میں لبنان میں کئی اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد سی آئی اے نے وہاں اپنی موجودگی کی باریکیوں کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔

سنہ انیس سو چوراسی میں حزب اللہ نے بیروت سے سی آئی اے کے سٹیشن چیف کو اغواء کر کے قتل کردیا تھا۔

گزشتہ ماہ ایران نے کہا تھا کہ اس نے درجن بھر کے قریب سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے والے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن کا نشانہ ملک کی فوجی اور جوہری تنصیبات تھیں۔

اسی بارے میں