پاکستان کی امداد میں کٹوتی نہیں کی:امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اگر یہ بل قانون بن گیا تو ہم حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی شرائط پوری کرنے کے معاملے پر کام کریں گے:وکٹوریہ نولینڈ

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کو دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد روکی نہیں ہے بلکہ اسے امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے دیسی دھماکہ خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ حکمتِ عملی کی تیاری سے مشروط کیا گیا ہے۔

منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے لیے امریکی امداد میں سات سو ملین ڈالر کی کٹوتی نہیں کی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ اس دفاعی بل کا حصہ ہے جو کہ اس وقت کانگریس میں ہے اور جس کے تحت محکمۂ دفاع کو مخصوص عسکری نظاموں کے استعمال اور کارگزاری کے حوالے سے حکمتِ عملی خصوصاً دیسی دھماکہ خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی‘۔

وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ اگر یہ بل قانون بن گیا تو ہم حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی شرائط پوری کرنے کے معاملے پر کام کریں گے‘۔

خیال رہے کہ امریکہ میں اراکینِ پارلیمان کے پینل نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد روک دی جائے۔

یہ اتفاقِ رائے پیر کی رات ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین پر مشتمل مذاکراتی پینل کے اجلاس میں ہوا تھا جو امریکہ کے چھ سو باسٹھ ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر بحث کر رہا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دفاعی بجٹ کا یہ بل توقع ہے کہ رواں ہفتے منظور کرلیا جائے گا۔

پاکستان کو دی جانے والی امداد پر قدغن لگانے کا مقصد اس پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد کی پیداوار کو روکے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین بک مک کیون کا کہنا تھا ’ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اب بدگمانی آچکی ہے۔ (تاہم) ہمیں ان کی ضرورت ہے اور انہیں ہماری۔ لیکن ایک بات جو مجھے افغانستان کی اِس جنگ میں سب سے زیادہ مضطرب کرتی ہے وہ زندگیوں اور انسانی اعضاء کا زیاں ہے۔‘

رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان پر شدت پسندوں سے نمٹنے میں ناکامی اور ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی خفیہ کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کی مبینہ پشت پناہی جیسے رجحانات کے بعد اسے سزا دینے کے مطالبات میں اضافہ ہورہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے شدت پسندوں کا مؤثر ہتھیار ہے۔ زیادہ تر دیسی ساختہ بموں کو بنانے کے لیے امونیم نائٹریٹ یعنی عام کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مواد پاکستان سے سرحد پار لایا جاتا ہے۔

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مک کین نے کہا ’افغانستان میں امریکی فورسز کے خلاف استعمال ہونے والے دیسی ساختہ بم بنانے کے لیے زیادہ تر مواد پاکستان میں واقع کھاد کی دو فیکٹریوں سے آتا ہے۔‘

امریکہ نے سنہ دو ہزار ایک سے اب تک پاکستان کو معاشی اور سکیورٹی کی امداد کی مد میں بیس ارب ڈالر مختص کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر ادائیگی پاکستان کی جانب سے خرچہ کے کھاتے دکھانے کی بعد کی گئی ہے۔

تاہم امریکی قانون دانوں نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کردار پر جھنجلاہٹ کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں