عراق جنگ کا اختتام: کیا کھویا، کیا پایا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ عراق سے اپنے آخری فوجیوں کو واپس لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ آٹھ سالہ جنگ، جس کی قیمت اربوں ڈالر اور ہزاروں جانیں تھی، کا یہ آخری مرحلہ ہوگا۔

عراق کی حفاظت اور اس تباہ شدہ ملک کی تعمیرِ نو کی ذمہ داری اب عراقی رہنماؤں کے کندھوں پر ہو گی۔

اس جنگ سے وابستہ تقریباً ہر اعداد و شمار پر بحث جاری ہے اور اس جنگ کی عراقی ہلاکتوں کی تعداد پر تو بہت تھوڑے لوگ متفق ہوتے ہیں۔ چند اہم اعداد و شمار اور ان سے وابستہ مباحثوں کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔

فوجیوں کی تعداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد عام طور پر ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ البتہ دو ہزار سات میں سابق صدر جارج بش نے بغداد میں سکیورٹی کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے تیس ہزار اضافی فوجی عراق بھیجے تھے۔

براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کا ایک مرکزی وعدہ اس نعرے کو بنایا تھا کہ وہ عراق سے فوجیوں کو واپس بلائیں گے اور جب سے انھوں نے صدارت سنبھالی ہے، فوجیوں کی تعداد میں رفتہ رفتہ کمی آتی رہی ہے۔

اُنیس اگست دو ہزار دس کو امریکہ کا آخری جنگی دستہ واپس بلا لیا گیا تھا جس کے بعد عراق میں صرف پچاس ہزار فوجی رہ گئے تھے جو کہ منتقلی کے عمل کا حصہ تھے۔

برطانوی فوجوں کی سب سے زیادہ تعداد ابتدائی حملے کے دوران تھی جو کہ چھیالیس ہزار رہی۔ ابتدائی حملے کے بعد برطانوی فوجوں کی تعداد ہر سال گرتی رہی اور مئی دو ہزار نو میں چار ہزار ایک سو تک پہنچ گئی جب برطانیہ نے باضابطہ طور پر عراق کی جنگ سے اپنے تمام فوجی واپس بلا لیے تھے۔

رائل نیوی عراقی بحریہ کو مئی دو ہزار گیارہ تک تربیت دیتی رہی۔ اس وقت عراق میں برطانوی فوجی صرف نیٹو کے تربیتی عملے کا حصہ ہیں۔ اس میں چوالیس فوجی اہلکار شامل میں جن کا ایک حصہ عراقی ملٹری اکیڈمی میں تعینات ہیں۔

ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی محکمہ دفاع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’آپریشن عراقی فریڈم‘ کے انیس مارچ دو ہزار تین کے آغاز سے لے کر اب تک 4487 امریکی فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اکتیس اگست دو ہزار دس تک، جب کہ آخری امریکی فوجی دستہ واپس بلایا گیا۔ تب تک ان ہلاکتوں کی تعداد 4221 تھی جن میں سے 3492 ہلاکتیں جنگی کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔ تقریباً بتیس ہزار فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد سے آپریشن کا نام تبدیل کر کے نیو ڈان رکھ دیا گیا جس میں ابھی تک چھیاسٹھ لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں سے بتیس کی ہلاکتیں میدانِ جنگ پر پیش آئیں۔ ایک ستمبر دو ہزار دس سے تین سو پانچ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

برطانیہ کے ایک سو اناسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے ایک سو چھتیس کی ہلاکت جنگی کارروائیوں کے دوران ہوئی۔ آئی کیژوئلٹیز (icasualties) نامی ویب سائٹ کے مطابق دوسرے اتحادی ممالک کے ایک سو اُنتالیس فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اگرچہ اتحادی فوجوں کی ہلاکتوں کی باریک بینی سے تفصیل رکھی گئی ہے، دوسری جانب عراقی شہریوں اور لڑنے والوں کا حساب رکھنا بغیر کسی سرکاری ذرائع کے مشکل ثابت ہوا ہے۔ تمام اندازوں اور تخمینوں پر اختلافات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’عراق باڈی کاؤنٹ‘ نامی ایک تنظیم عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کا تخمینہ لگا رہی ہے۔ اس کام کے لیے وہ میڈیا کی رپورٹوں اور مردہ گھروں کے اعداد و شمار کی مدد حاصل کر رہے ہیں۔ ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ کے مطابق جولائی دو ہزار دس تک ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ستانوے ہزار چار سو اکسٹھ اور ایک لاکھ چھ ہزار تین سو اٹھتیس کے درمیان ہے۔

تنظیم کے مطابق دو ہزار تین کے ابتدائی حملے کے دوران میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ مارچ کے مہینے میں تین ہزار نو سو ستتر عام شہری مارے گئے اور اگلے مہینے اپریل میں تین ہزار چار سو سینتیس مزید شہری ہلاک ہوئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اندازے کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سطحوں میں فرق کی وجہ بہت سے واقعات کی رپورٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں فرق یا اس بات پر تضاد کہ کتنے ہلاک عام شہری اور کتنے عسکریت پسند تھے۔

دوسری رپورٹوں اور سروے کے مطابق عراق میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے اندازوں کی ایک وسیع رینج ملتی ہے۔

اقوامِ متحدہ سے حمایت یافتہ ’عراقی فیملی ہیلتھ سروے‘ کے اندازے کے مطابق مارچ دو ہزار تین اور جون دو ہزار چھ کے درمیان ایک لاکھ اکاون ہزار عام شہری ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب ’دی لانسٹ‘ نامی جریدے نے دو ہزار چھ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عام عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کا تخمینہ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ لگایا گیا۔

فیملی ہیلتھ سروے اور دی لانسٹ، دونوں اپنے تخمینوں میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کو ملا کر گنتے ہیں۔

سویلین ٹھیکیداروں کی بھی ایک نامعلوم تعداد اس جنگ میں ماری جا چکی ہے۔ آئی کیژوئلٹیز ویب سائٹ نے ہلاک ہونے والے چار سو سڑسٹھ ٹھیکیداروں کی جزوی فہرست شائع کی ہے۔

جنگ کی قیمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عراق جنگ کا ایک بہت متنازع پہلو اس جنگ کی مجموعی قیمت ہے جس کے تخمینے کافی مختلف ہیں۔

غیر جانبدار ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کے مطابق امریکہ اس جنگ پر دو ہزار گیارہ کے مالیاتی سال کے آخر تک تقریباً آٹھ سو دو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہوگا اور مزید سات سو سنتالیس اعشاریہ چھ ارب ڈالر مختص کر چکا ہے۔

مگر نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات جوزف سٹگلٹز اور ہاورڈ یونیورسٹی کی لنڈا بمز نے اس جنگ کی اصل قیمت تین کھرب ڈالر ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس میں انھوں نے بجٹ اور معیشت پر اس جنگ کے دوسرے اثرات کو بھی ملایا ہے۔

برطانیہ نے اس جنگ میں اپنا حصہ ٹریژری ریزرو فنڈ کی مدد سے ڈالا جو کہ وزارتِ دفاع کے بجٹ کے علاوہ ہوتا ہے۔

وائٹ ہال نے جون دو ہزار دس میں عراق جنگ کے برطانوی اخراجات کی تفصیل شائع کی جس کے مطابق اس جنگ پر برطانیہ نے نو اعشاریہ چوبیس ارب پاؤنڈ خرچے ہیں۔ اس میں سے زیادہ تر حصہ فوج کے لیے تھا مگر پچپن کروڑ پاؤنڈ امداد کی مد میں بھی دیے گئے۔

جنگی اخراجات کا ایک خلاصہ جنوری دو ہزار دس میں برطانیہ کی عراق انکوائری کو بھی پیش کیا گیا تھا۔

پانچ فیصد سے زیادہ عراقی بےگھر

سنہ دو ہزار پانچ کے آغاز میں فرقہ وارانہ فسادات نظر آنے لگے مگر دو ہزار چھ میں ایک اہم شیعہ مزار کی تباہی کے بعد شیعہ اور سنی فسادات تیزی سے بڑھنے لگے۔ اس کی وجہ سے بہت سے عراقی خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں یا بیرونِ ملک ہجرت کرنی پڑی۔

’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن‘ جو کہ بے گھر افراد کے لیے کام کرتی ہے، نے اندازہ لگایا ہے کہ دو ہزار چھ سے دو ہزار دس تک کی مدت میں تقریباً سولہ لاکھ عراقی بے گھر ہوئے جو کہ کُل آبادی کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔

ان کے مطابق اِس میں سے تقریباً چار لاکھ لوگ دو ہزار دس کے درمیانی حصے تک بغداد، دیالا، ننیوا اور انبار صوبوں میں گھروں کو لوٹ گئے تھے۔