عراق سے جاتے ہوئے سر بلند ہے:اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فخریہ طور پر یہ دو لفظ کہہ رہا ہوں۔گھر واپسی پر خوش آمدید۔ واپسی مبارک ہو:براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے تقریباً نو برس جاری رہنے والی عراق مہم کے خاتمے کے موقع پرامریکی فوجیوں کی غیرمعمولی کامیابی کی تعریف کی ہے۔

شمالی کیرولائنا میں فورٹ بریگ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس جنگ میں حصہ لینے والے اور اس کے دوران مارے جانے والے فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق عراق میں مارچ دو ہزار تین سے اب تک چار ہزار آٹھ سو سے زائد فوجی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

عراق سے آخری امریکی دستے آنے والے چند دنوں میں واپس چلے جائیں گے۔ رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے عراق کے استحکام پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے امریکی انخلاء پر تنقید کی ہے لیکن زیادہ تر امریکی فوج کی واپسی چاہتے ہیں۔

بدھ کو اپنے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ ’کل عراق میں امریکی فوج کے پرچم تہہ کر دیے جائیں گے اور وہ(فوجی) وطن واپسی کا سفر شروع کر دیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بطور کمانڈر انچیف اور اس شکرگزار قوم کی جانب سے میں آخرِکار فخریہ طور پر یہ دو لفظ کہہ رہا ہوں۔ گھر واپسی پر خوش آمدید۔ واپسی مبارک ہو‘۔ انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ وہ ’سر اٹھا کر عراق سے جا رہے ہیں‘۔

امریکہ نے سنہ 2010 میں عراق میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جبکہ براک اوباما نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ سنہ 2011 کے اختتام تک تمام امریکی فوجی عراق سے چلے جائیں گے۔

امریکی فوج کے آخری جنگجو دستے نے رواں برس اگست میں عراق چھوڑا تھا۔ فوج کے انخلاء کا یہ نظام الاوقات سنہ 2008 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کے دور میں طے ہوا تھا۔

اسی بارے میں