’شام پر مغرب کا موقف غیر اخلاقی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں بیرونی مداخلت کے جواز کے لیے بہانہ تلاش کیا جارہا ہے: سرگئے لیوروف

روس نے مغرب پر الزام عائد کیا ہے کہ شام کے معاملے میں اس کا موقف ’غیر اخلاقی‘ ہے اور کہا ہے کہ اسے سکیورٹی فورسز کے ساتھ حزبِ اختلاف کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئے لیوروف کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کے گروپس لوگوں کو اشتعال دلا کر بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کے لیے ’انسانی بحران‘ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا یہ بیان اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ نوی پلے کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ شام کا معاملہ جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ شام میں نو ماہ سے جاری حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اکتوبر کے ماہ میں روس اور چین نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو ویٹو کردیا تھا جس میں شام کی مذمت کی گئی تھی۔ اس قرارداد کا عبوری مسودہ فرانس اور برطانیہ نے مغربی ممالک کے تعاون سے تیار کیا تھا۔

منگل کو سرگئے لیوروف نے چین اور روس کے تیار کردہ عبوری مسودہ کا دفاع کیا جس میں شام میں جاری تنازع میں ملوث فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے ایسے ممالک کے کردار کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دیا جو شام میں حزبِ اختلاف کے مسلح شدت پسند حصے پر دباؤ ڈالنے سے منکر ہیں اور ’الٹا ہمیں الزام دیتے ہیں کہ ہم سلامتی کونسل کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔‘

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حمص میں حزبِ اختلاف نے سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا ’میرے نزدیک یہ بالکل واضح ہے کہ اشتعال دلانے کا مقصد انسانی بحران پیدا کرنا ہے تاکہ اس تنازع کے حل کے لیے بیرونی مداخلت کے جواز کا بہانہ تلاش کیا جاسکے۔‘

روس پہلے ہی مغربی ممالک پر الزام عائد کرچکا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کو شام میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے استعمال کررہا ہے۔

اسی بارے میں