عراقی جنگ ختم، امریکی پرچم اتر گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 دسمبر 2011 ,‭ 17:02 GMT 22:02 PST

عراق میں نو سالہ جنگ کے بعد امریکی فوجی آپریشن کے خاتمے پر جمعرات کو بغداد میں رسمی طور پر امریکی پرچم اتار لیا گیا ہے۔

اس جنگ کے دوران لگ بھگ ساڑھے چار ہزار امریکی اور ایک لاکھ سے زائد عراقی ہلاک ہوئے ہیں اور جنگ پر امریکہ کے تقریباً دس کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔

امریکی پرچم اتر گیا

عراق میں نو سالہ جنگ کے بعد جمعرات کے روز امریکی فوجی آپریشن کے خاتمے پر دارالحکومت بغداد میں رسمی طور پر امریکی پرچم اتار لیا گیا ہے۔

عراق میں تعینات ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوجی عراق کی سکیورٹی معاملات عراقی حکام کے حوالے کر کے وہاں سے جا چکے ہیں۔

عراق میں چار ہزار امریکی فوجی رہ گئے ہیں جن کا انخلاء چند روز میں ہو جائے گا۔ عراق میں رہ گئے امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے نو سال جاری رہنے والی جنگ میں امریکی فوجیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں اور عراقیوں دونوں ہی کو اس جنگ کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی لیکن اس کے نتیجے میں آزاد اور خودمختار عراق وجود میں آیا ہے۔

عراق جنگ کے دوران لگ بھگ ساڑھے چار ہزار امریکی اور ایک لاکھ سے زائد عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس جنگ پر امریکہ کے تقریباً دس کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔

امریکہ میں ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے عراق کے استحکام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فوج کے انخلا پر تنقید کی ہے لیکن زیادہ تر امریکیوں نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

بدھ کے روز شمالی کیرولائنا میں عراق سے واپس لوٹنے والے فوجیوں سے خطاب میں امریکی صدر نے عراق جنگ کو امریکی فوج کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عراق سے نکلتے ہوئے امریکی فوج کے سر بلند ہیں۔‘

دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد سے وہاں پندرہ لاکھ امریکی فوجیوں نے خدمات انجام دیں جن میں ہلاک ہونے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس جنگ میں تیس ہزار فوجی زحمی ہوئے۔

عراق میں تعینات آخری جنگی فوجی دستہ گذشتہ سال اگست میں واپس چلا گیا تھا تاہم دو سو افراد پر مشتمل ایک دستہ رک گیا تھا جن کا کام عراقی حکام سے مشاورت کرنا تھا۔

بعض عراقیوں کو خدشہ ہے کہ ان کے لیے سکیورٹی انتظام سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بغداد کے ایک تاجر کا کہنا ہےکہ وہ امریکیوں کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے صدام حسن سے چھٹکارہ دلایا لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میراخیال ہے کہ اب ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد پھر سے حملے شروع کر دیں۔‘

عراقی کا شہر فلوجہ جو باغیوں کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور یہاں امریکہ نے دو ہزار چار میں بڑی کارروائی کی۔ بدھ کے روز امریکی فوج کے واپسی کی خوشی میں یہاں امریکی پرچم نذرِ آتش کیے گئے۔

خود امریکہ میں بھی عراق کے سیاسی ڈھانچے کی کمزور اور سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ عراق پھر سے فرقہ وارانہ تشدد کا شکار یا ایران سے متاثر ہو سکتا ہے۔

عراق میں جنگ کا آغاز سابق امریکی صدر بش کے دورِ حکومت میں دو ہزار تین میں کیا گیا جو بہت جلد اس وقت متنازع ہو گیا جب وہ الزامات غلط ثابت ہو گئے جنہیں بنیاد بنا کر یہ حملہ کیا گیا۔ بش انتطامیہ کا موقف تھا کہ سابق عراقی صدر صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اپنے ملک میں چھپائے ہوئے ہیں اور وہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یہی جنگ آگے چل کر فرقہ وارانہ لڑائی میں تبدیل ہو گئی جس میں ہزاروں عراقی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ سابق صدر بش کے طے کردہ نظام الاوقات کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے آخر تک تمام امریکی فوجی عراق سے نکل جائیں گے۔

امریکہ میں کیے گئے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق پچہتر فیصد امریکیوں نے عراق سے اپنی فوج کے انخلا کی حمایت کی تھی۔

2003 سے 2011: عراق میں امریکی فوج

  • انیس، بیس مارچ سنہ 2003 حملے کا آغاز

    انیس مارچ سنہ دو ہزار تین کو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اعلان کیا کہ امریکہ عراق کو غیر مسلح کرنے کے لیے منتخب اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا دعویٰ تھا کہ اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں اور وہ انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس کے بعد ’عراق کی آزادی‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں عراق کے دارالحکومت بغداد سے باہر ایک فارم پر بم برسائے گئے جس کے بارے میں خفیہ اداروں کا کہنا تھا کہ صدام حسین وہاں چھپ سکتے ہیں تاہم یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔

  • تین سے بارہ اپریل 2003 بغداد پر قبضہ

    امریکی ٹینکوں کو عراقی دارالحکومت بغداد کی سٹرکوں پر گشت کرنے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت لگا۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ترجمان ایری فلیشر نے کہا ’امریکی صدر فوجی آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے بہت مطمئن ہیں تاہم اس کے باوجود وہ بہت محتاط بھی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ابھی مسقبل میں بڑے خطرہ موجود ہے۔‘

  • یکم مئی 2003، مہم کامیاب

    عراق پر حملے کے صرف دو ماہ بعد امریکی صدر بش نے کیلیفورنیا کے ساحل پر طیارہ بردار بحری جہاز پر آ کر عراق کی جنگ جیتنے کا اعلان کیا۔ بش انتظامیہ نے یہ بات محسوس کی کہ صدر نے اس جنگ کے قانونی خاتمے کا اعلان نہیں کیا کیونکہ امریکہ نے عراق جنگ کو کبھی بھی قانونی جنگ قرار نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج آٹھ سال سے زیادہ عرصہ عراق میں رہی۔

  • تیرہ دسمبر 2003، صدام گرفتار

    تیرہ دسمبر کو امریکی منتظم پال بریمیر نے بغداد میں موجود صحافیوں کو بتایا ’خواتین و حضرات، ہم نے اسے پکڑ لیا ہے۔‘ امریکی فوج نے اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کو ان کے آبائی قصبے تکریت سے زیرِ زمین بنکر سے گرفتار کیا۔ سنہ دو ہزار چھ میں نئی عراقی حکومت نے صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلایا جس میں صدام کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی گئی۔

  • سنہ دو ہزار چار، سرکشی جاری

    سنہ دو ہزار تین کے آخر تک مزاحمت کاروں نے امریکہ کی حمایت یافتہ افواج کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ سنہ دو ہزار چار میں امریکی افواج کو عراقی شہر فلوجہ میں مزاحمت کارروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فلوجہ کی دوسری جنگ نومبر سنہ دو ہزار چار میں شروع ہوئی جسے مہلک ترین جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں بارہ سو مزاحمت کارروں کے علاوہ آٹھ سو عام شہری مارے گئے جبکہ اتحادی افواج کے سو سے زیادہ سپاہی بھی ہلاک ہوئے۔

  • سنہ دو ہزار چار، ابو غریب سکینڈل

    سنہ دو ہزار چار میں ابو غریب سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔ اس سکینڈل کی تصاویر کو امریکی ٹی وی کے ایک پروگرام میں دکھایا گیا۔ ان تصاویر میں امریکی فوجیوں کو ابو غریب جیل کے قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم کرتے دکھایا گیا۔ ان تصاویر کی اشاعت پر امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ فعل ’چند برے افراد‘ کا ہے۔ تاہم سنہ دو ہزار آٹھ میں امریکی سینیٹ کی مسلح سروسز کی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ عمل جارحانہ تکنیک کا حصہ تھا۔

  • سنہ 2005، خود کش حملوں کا سلسلہ پھیل گیا

    عراق میں سنہ دو ہزار پانچ میں خود کش حملوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ اس سال 478 خود کش حملے کیے گئے۔ مزاحمت کارروں کا ہدف فوجی اہلکاروں سے ہٹ کر عام شہریوں کی جانب ہو گیا۔ یہ سلسلہ اتنا پھیلا کہ سنی اور شعیہ مسلک کے افراد نے ایک دوسرے پر حملے کرنے شروع کر دیے۔

  • مئی سنہ 2006، نئی حکومت کا قیام

    مئی سنہ ہزار چھ میں عراقی کے وزیرِاعظم نورالمالکی نے پہلی بار نئی حکومت کی پارلیمانی منظوری لی۔ اسی برس جولائی میں اتحادی افواج نے پہلی بار عراقی صوبے متانا کا کنٹرول عراقی حکام کے حوالے کیا۔

  • جنوری 2007، فوجیوں کی تعداد میں اضافہ

    عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد امریکہ نے تشدد زدہ علاقوں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یہ فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی قیادت میں روانہ کیے گئے۔ اس مشن کا نام تھا ’عراقیوں کے دل و دماغ جیتنا‘۔ اس مشن کے تحت سنہ دو ہزار آٹھ تک عراق کے کچھ علاقوں میں جاری تشدد میں اسی فیصد کمی ہوئی۔

  • تیس اپریل 2009، برطانوی فوج کی عراق سے واپسی

    سنہ دو ہزار نو میں برطانوی فوجیوں کی عراق کے شہر بصرہ سے واپسی شروع ہوئی۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں عراق میں موجود آخری اکاسی برطانوی فوجی بھی واپس چلے گئے۔ اس جنگ میں 179 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔

  • اکتیس اگست 2010، امریکی افواج کی واپسی

    سنہ دو ہزار دس میں عراق میں موجود امریکی افواج کی واپسی شروع ہوئی۔

  • اکتوبر2011 جنگ کے خاتمے کا اعلان

    امریکی صدر براک اوباما نے عراق کی جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اوباما نے وعدہ کیا کہ عراق میں موجود افواج کرسمس تک واپس آجائیں گی۔ واضح رہے امریکہ اور عراق کے درمیان امریکی فوج کی عراق سے واپسی کی معاہدہ رواں برس اکتیس دسمبر کو ختم ہو رہا ہے۔

خدا کرے وہ زندہ ہوں

امریکی دستے دس اپریل دو ہزار تین کو اور میں دس مئی کو بغداد میں داخل ہوا۔ عام عراقی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ خوش زیادہ ہے یا غمگین و ششدر زیادہ۔ مگر امریکی فوجی بہت خوش اور بشاش تھے۔

فلسطین ہوٹل کے باہر ایک امریکی ٹینک چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پر تھا۔ اس ٹینک کا عملہ یا تو بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیل کر وقت گذارتا، یا کانوں میں ہیڈ فون لگا کر موسیقی سنتا یا پھر جمائیاں لیتا رہتا۔ کبھی کبھار کوئی مقامی باشندہ اور اس کے بیوی بچے ان فوجیوں کے ساتھ تصویریں کھچوا کر خوش ہو جاتے تھے۔

ایک روز ٹینک پر آلتی پالتی مارے کش لیتے پرائیویٹ آسٹن نے مجھ سے کہا اگر تم اپنا تھورایا سیٹ دے دو تو پانچ منٹ گرل فرینڈ سے بات کرلوں۔ میں نے خوش دلی سے تھورایا فون آگے کردیا۔ بات ختم کرنے کے بعد کہنے لگا معلوم نہیں کب تک یہاں رہنا پڑے۔ ویسے تو افسر لوگ تین مہینے کا کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا کم ازکم تین سال ۔۔۔ اس نے قہقہاتے ہوئے کہا ۔۔۔ یو مسٹ بی کریزی مین۔۔۔نو وے۔۔۔

مگر ہم دونوں کے اندازے غلط نکلے۔ پرائیویٹ آسٹن کے تین ماہ اور میرے تین برس آٹھ سال پر پھیل گئے۔

ہر بار بھول جاتے ہیں

ویسے ہر جنگ یہ سوچ کر شروع کی جاتی ہے کہ جیسا سوچا ہے ویسے ہی ہوگا۔ اور ہر دفعہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہمارے اختیار میں ہوتی ہے اور شروع ہو جائے تو پھر ہم اس کے اختیار میں ہوتے ہیں۔

مگر جارج بش تو ہم سے بھی زیادہ اتاولا نکلا۔ حالانکہ ابھی ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی اور ایک لاکھ عراقی بھی نہیں مرے تھے۔ پھر بھی اس نے بغداد پر قبضے کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی ’مشن مکمل ہوگیا‘ کا نعرہ لگا دیا۔

ویسے ہر جنگ یہ سوچ کر شروع کی جاتی ہے کہ جیسا سوچا ہے ویسے ہی ہوگا۔ اور ہر دفعہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہمارے اختیار میں ہوتی ہے اور شروع ہو جائے تو پھر ہم اس کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ ویتنام میں بھی امریکی تین ماہ کے لیے گھسے تھے۔ افغانستان اور پھر عراق میں بھی امریکی چھ ماہ کے لیے گھسے تھے۔

سائیگون سے آخری امریکی فوجی، سفارتخانے کی چھت پر اترنے والے آخری ہیلی کاپٹر سے لٹک کر ویتنام سے نکلا تھا۔ لیکن بغداد سے امریکی آٹھ برس بعد ہی سہی مگر اپنے نظام الاوقات کے مطابق واپس جا رہے ہیں۔ کیا یہ کم کامیابی ہے؟

معلوم نہیں پرائیویٹ آسٹن کا کیا بنا؟ خدا کرے وہ آج بھی زندہ ہو اور اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بھی زندہ ہو۔

اور جن بچوں کے ساتھ آسٹن فلسطین ہوٹل کے باہر فٹ بال کھیلتا تھا وہ بھی زندہ ہوں۔

آٹھ برس: کیا کھویا، کیا پایا؟

امریکہ عراق سے اپنے آخری فوجیوں کو واپس لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ آٹھ سالہ جنگ، جس کی قیمت اربوں ڈالر اور ہزاروں جانیں تھی، کا یہ آخری مرحلہ ہوگا۔

عراق کی حفاظت اور اس تباہ شدہ ملک کی تعمیرِ نو کی ذمہ داری اب عراقی رہنماؤں کے کندھوں پر ہو گی۔

اس جنگ سے وابستہ تقریباً ہر اعداد و شمار پر بحث جاری ہے اور اس جنگ کی عراقی ہلاکتوں کی تعداد پر تو بہت تھوڑے لوگ متفق ہوتے ہیں۔ چند اہم اعداد و شمار اور ان سے وابستہ مباحثوں کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔

فوجیوں کی تعداد

عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد عام طور پر ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ البتہ دو ہزار سات میں سابق صدر جارج بش نے بغداد میں سکیورٹی کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے تیس ہزار اضافی فوجی عراق بھیجے تھے۔

براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کا ایک مرکزی وعدہ اس نعرے کو بنایا تھا کہ وہ عراق سے فوجیوں کو واپس بلائیں گے اور جب سے انھوں نے صدارت سنبھالی ہے، فوجیوں کی تعداد میں رفتہ رفتہ کمی آتی رہی ہے۔

اُنیس اگست دو ہزار دس کو امریکہ کا آخری جنگی دستہ واپس بلا لیا گیا تھا جس کے بعد عراق میں صرف پچاس ہزار فوجی رہ گئے تھے جو کہ منتقلی کے عمل کا حصہ تھے۔

برطانوی فوجوں کی سب سے زیادہ تعداد ابتدائی حملے کے دوران تھی جو کہ چھیالیس ہزار رہی۔ ابتدائی حملے کے بعد برطانوی فوجوں کی تعداد ہر سال گرتی رہی اور مئی دو ہزار نو میں چار ہزار ایک سو تک پہنچ گئی جب برطانیہ نے باضابطہ طور پر عراق کی جنگ سے اپنے تمام فوجی واپس بلا لیے تھے۔

رائل نیوی عراقی بحریہ کو مئی دو ہزار گیارہ تک تربیت دیتی رہی۔ اس وقت عراق میں برطانوی فوجی صرف نیٹو کے تربیتی عملے کا حصہ ہیں۔ اس میں چوالیس فوجی اہلکار شامل میں جن کا ایک حصہ عراقی ملٹری اکیڈمی میں تعینات ہیں۔

ہلاکتیں

امریکی محکمہ دفاع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’آپریشن عراقی فریڈم‘ کے انیس مارچ دو ہزار تین کے آغاز سے لے کر اب تک 4487 امریکی فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اکتیس اگست دو ہزار دس تک، جب کہ آخری امریکی فوجی دستہ واپس بلایا گیا۔ تب تک ان ہلاکتوں کی تعداد 4221 تھی جن میں سے 3492 ہلاکتیں جنگی کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔ تقریباً بتیس ہزار فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد سے آپریشن کا نام تبدیل کر کے نیو ڈان رکھ دیا گیا جس میں ابھی تک چھیاسٹھ لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں سے بتیس کی ہلاکتیں میدانِ جنگ پر پیش آئیں۔ ایک ستمبر دو ہزار دس سے تین سو پانچ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

برطانیہ کے ایک سو اناسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے ایک سو چھتیس کی ہلاکت جنگی کارروائیوں کے دوران ہوئی۔ آئی کیژوئلٹیز (icasualties) نامی ویب سائٹ کے مطابق دوسرے اتحادی ممالک کے ایک سو اُنتالیس فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اگرچہ اتحادی فوجوں کی ہلاکتوں کی باریک بینی سے تفصیل رکھی گئی ہے، دوسری جانب عراقی شہریوں اور لڑنے والوں کا حساب رکھنا بغیر کسی سرکاری ذرائع کے مشکل ثابت ہوا ہے۔ تمام اندازوں اور تخمینوں پر اختلافات ہیں۔

’عراق باڈی کاؤنٹ‘ نامی ایک تنظیم عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کا تخمینہ لگا رہی ہے۔ اس کام کے لیے وہ میڈیا کی رپورٹوں اور مردہ گھروں کے اعداد و شمار کی مدد حاصل کر رہے ہیں۔ ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ کے مطابق جولائی دو ہزار دس تک ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ستانوے ہزار چار سو اکسٹھ اور ایک لاکھ چھ ہزار تین سو اٹھتیس کے درمیان ہے۔

تنظیم کے مطابق دو ہزار تین کے ابتدائی حملے کے دوران میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ مارچ کے مہینے میں تین ہزار نو سو ستتر عام شہری مارے گئے اور اگلے مہینے اپریل میں تین ہزار چار سو سینتیس مزید شہری ہلاک ہوئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اندازے کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سطحوں میں فرق کی وجہ بہت سے واقعات کی رپورٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں فرق یا اس بات پر تضاد کہ کتنے ہلاک عام شہری اور کتنے عسکریت پسند تھے۔

دوسری رپورٹوں اور سروے کے مطابق عراق میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے اندازوں کی ایک وسیع رینج ملتی ہے۔

اقوامِ متحدہ سے حمایت یافتہ ’عراقی فیملی ہیلتھ سروے‘ کے اندازے کے مطابق مارچ دو ہزار تین اور جون دو ہزار چھ کے درمیان ایک لاکھ اکاون ہزار عام شہری ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب ’دی لانسٹ‘ نامی جریدے نے دو ہزار چھ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عام عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کا تخمینہ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ لگایا گیا۔

فیملی ہیلتھ سروے اور دی لانسٹ، دونوں اپنے تخمینوں میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کو ملا کر گنتے ہیں۔

سویلین ٹھیکیداروں کی بھی ایک نامعلوم تعداد اس جنگ میں ماری جا چکی ہے۔ آئی کیژوئلٹیز ویب سائٹ نے ہلاک ہونے والے چار سو سڑسٹھ ٹھیکیداروں کی جزوی فہرست شائع کی ہے۔

جنگ کی قیمت

عراق جنگ کا ایک بہت متنازع پہلو اس جنگ کی مجموعی قیمت ہے جس کے تخمینے کافی مختلف ہیں۔

غیر جانبدار ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کے مطابق امریکہ اس جنگ پر دو ہزار گیارہ کے مالیاتی سال کے آخر تک تقریباً آٹھ سو دو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہوگا اور مزید سات سو سنتالیس اعشاریہ چھ ارب ڈالر مختص کر چکا ہے۔

مگر نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات جوزف سٹگلٹز اور ہاورڈ یونیورسٹی کی لنڈا بمز نے اس جنگ کی اصل قیمت تین کھرب ڈالر ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس میں انھوں نے بجٹ اور معیشت پر اس جنگ کے دوسرے اثرات کو بھی ملایا ہے۔

برطانیہ نے اس جنگ میں اپنا حصہ ٹریژری ریزرو فنڈ کی مدد سے ڈالا جو کہ وزارتِ دفاع کے بجٹ کے علاوہ ہوتا ہے۔

فرقہ وارانہ فسادات

سنہ دو ہزار پانچ کے آغاز میں فرقہ وارانہ فسادات نظر آنے لگے مگر دو ہزار چھ میں ایک اہم شیعہ مزار کی تباہی کے بعد شیعہ اور سنی فسادات تیزی سے بڑھنے لگے۔

وائٹ ہال نے جون دو ہزار دس میں عراق جنگ کے برطانوی اخراجات کی تفصیل شائع کی جس کے مطابق اس جنگ پر برطانیہ نے نو اعشاریہ چوبیس ارب پاؤنڈ خرچے ہیں۔ اس میں سے زیادہ تر حصہ فوج کے لیے تھا مگر پچپن کروڑ پاؤنڈ امداد کی مد میں بھی دیے گئے۔

’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن‘ جو کہ بے گھر افراد کے لیے کام کرتی ہے، نے اندازہ لگایا ہے کہ دو ہزار چھ سے دو ہزار دس تک کی مدت میں تقریباً سولہ لاکھ عراقی بے گھر ہوئے جو کہ کُل آبادی کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔

ان کے مطابق اِس میں سے تقریباً چار لاکھ لوگ دو ہزار دس کے درمیانی حصے تک بغداد، دیالا، ننیوا اور انبار صوبوں میں گھروں کو لوٹ گئے تھے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔