’قذافی کی ہلاکت جنگی جُرم ہوسکتی ہے‘

قذافی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قذافی کو باغیوں نے سرت سے زندہ مگر زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی عدالتِ انصاف کے چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے بارے میں شبہات ہیں کہ یہ جنگی جرائم کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

لوئس مورینو کیمپو کا کہنا تھا کہ آئی سی سی اپنے خدشات لیبیا کی عبوری حکومت کے سامنے رکھے گی۔

کرنل معمر قذافی کو اکتوبر میں باغیوں نے ان کے آبائی قصبے سرت سے پکڑا تھا۔

لیبیا کی عبوری کونسل این ٹی سی کے حکام نے شروع میں کہا تھا قذافی باغیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے لیکن اس معاملے میں مغرب کی جانب سے دباؤ کے بعد وہ تحقیقات کروانے پر رضامند ہو گئے۔

آئی سی سی کے استغاثہ مورینو کیمپو کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ جس طرح قذافی کو مارا گیا اس سے جنگی جرائم کے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔‘

’میرا خیال ہے کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے۔ ہم اپنے خدشات لیبیا کے حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔ وہ تمام جرائم کی جامع تحقیقات کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

لیبیا کے باغی جنگجوؤں نے سرت میں ایک خونی لڑائی کے بعد کرنل قذافی کو ایک نکاسی آب کے پائپ لائن سے تلاش کر لیا تھا۔

اس موقع بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باغیوں کا ایک مشتعل اور خوش گروہ انہیں زخمی مگر زندہ حالت میں لے کر جا رہا ہے۔ انہیں مشتعل ہجوم نے کئی بار دھکا دیا اور زمین پر گِرا کر زدو کوب کیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہجوم میں غائب ہو گئے اور گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔

معمر قذافی کے بیٹے معتصم کو بھی ان کے ساتھ زندہ گرفتار کیا گیا تھا اور وہ بھی باغیوں کی حراست میں ہلاک ہوئے۔

لیبیا کی عبوری کونسل نے مغربی اتحادیوں کی جانب سے دباؤ کے بعد کرنل معمر قذافی اور ان کے بیٹے کی ہلاکت کی تحقیقات کا وعدہ کیا۔

عالمی عدالتِ انصاف معمر قذافی کے ایک بیٹے کے سیف السلام کے خلاف بھی جنگی جرائم کے مقدمے کی سماعت کرے گی جو لیبیا کے حکام کی حراست میں ہیں۔

لوئس مورینو کیمپو نے تسلیم کیا کہ سیف السلام کے خلاف مقدمہ ہیگ میں نہیں بلکہ لیبیا میں ہی چلایا جائے گا۔

اسی بارے میں