شام میں تشدد کے خاتمے کیلیے روس کی قرارداد

یو این تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے روس اور چین نے شام کے خلاف پابندیوں سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

روس نے اقوام متحدہ میں شام کی صورت حال کے بارے میں ایک نئی قرارداد کا مسودہ پیش کر کے مغربی ملکوں کو حیران کر دیا ہے۔

روس نے اس قرارداد میں شام میں ہونے والے تشدد پر حکومت اور مظاہرین دونوں کی مذمت کی ہے تاہم کسی قسم کی پابندیوں کا ذکر نہیں کیا۔

مغربی ممالک گزشتہ کئی ماہ سے شام کی صورت حال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کروانے کی کوشش میں تھے لیکن انھیں روس کی طرف سے اس قرارداد کے ویٹو کیے جانے کا خطرہ تھا۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ روس کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد کے مندرجات پر مذاکرات کریں گے۔ روس کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد میں شام کی حکومت اور مخالفین کو ایک ہی سطح پر رکھ گیا ہے۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں اس سال مارچ سے جاری پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کی ذمہ داری بنیادی طور پر حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

مغربی ممالک کئی ماہ سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر شام کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن ہر بار چین اور روس نے ایسے کسی اقدام کو ویٹو کیا ہے۔

شام میں ہونے والے حالیہ تشدد میں فوجی باغیوں نے سکیورٹی فورسز کے ستائیس اہکاروں کو ہلاک کر دیا۔ لندن میں قائم شام کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں جنوبی صوبے دیرعا میں ہوئیں۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی داخلے پرسخت پابندیاں عائد ہیں اس لیے وہاں سے آنے والے اطلاعات کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ شام میں سات ماہ سے جاری کشیدگی میں پانچ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ شام کے صدر ان کا ذمہ دار بقول ان کے ’مسلح گروہوں‘ کو قرار دیتے ہیں۔

امریکی نیٹ ورک ای بی سی کو انٹرویو میں صدر الاسد نے کہا تھا کہ انہوں نے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کا حکم نہیں دیا۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد شام میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے لیکن اس میں پابندیاں شامل نہیں۔

ان کا کہنا تھا ’سلامتی کونسل میں دیگر ممالک کے ساتھیوں کا ردعمل تعمیری تھا۔‘

مسودے میں شام کی حکومت اور مظاہرین دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’شام میں فریقین تشدد بند کریں۔‘ تاہم مسودے میں شام کی حکومت کے مظاہرین کے ساتھ رویے کو ناموافق لکھا گیا جو روس کے شام کی حکومت کے لیے رویّے میں سختی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ نے بعض مسائل کی وجہ سے وہ روسی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ ’امید ہے کہ ہم روس کے ساتھ کام کر سکیں گے۔‘

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کا اصرار ہے کہ شام میں جاری تشدد کے لیے اصل میں وہاں کی حکومت ذمہ دار ہے۔

روس کا الزام ہے کہ مغرب اقوامِ متحدہ کے ذریعے شام میں جبراً حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے۔

اکتوبر میں روس اور چین نے یورپ کی جانب سے شام کے خلاف پابندیوں کی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اسی بارے میں