قاہرہ میں فوج مخالف مظاہروں کا چوتھا دن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر کے درالحکومت قاہرہ میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جمعہ سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک گیارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس اور فوج انہیں تحریر سکوائر سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ جھڑپوں کے دوران چند مظاہرین نے سکیورٹی فورسز سے ہنگامہ آرائی پر قابو پانے والے آلات حاصل کرلیے اور ان آلات کو وہ اب اپنی حفاظت کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے مصر میں حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد سے باز رہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ فوج حکومت سے الگ ہوجائے اور اقتدار کی منتقلی کے عمل کو تیز کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مصر میں عوامی احتجاج کے خلاف بے جا طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مظاہرین میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی جو کہ تحریر سکوائر میں پولیس پر پتھراؤ بھی کرتے رہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ جھڑپوں میں ایک اہم ثقافتی عمارت کو جلا دیا گیا جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ ہے۔ ’دی ایجپٹ انسٹیٹیوٹ‘ نامی اس عمارت میں دو سو سال تک پرانی دستاویزات رکھی گئی تھیں جو کہ تباہ ہوگئیں۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہروں کا تازہ سلسلہ مصری معاشرے میں پیدا ہونے والی تقسیم کی واضح مثال ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جہاں کچھ مظاہرین فوج کی جانب سے حکومت چھوڑنے میں تاخیر پر ناراض ہیں وہیں کئی لوگ ایسے ہیں جو فوج کو سیاسی تبدیلی کے اس مشکل دور میں استحکام لانے والی قوت گردانتے ہیں۔

اس سے قبل مصر کے وزیرِاعظم کمال الجنزوری نے کہا تھا کہ دارالحکومت قاہرہ میں جاری مظاہروں کے پیچھے’مخالفینِ انقلاب‘ کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ ان مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں یہ وہ نوجوان نہیں ہیں جن کی مدد سے رواں سال فروری میں صدر حسنیٰ مبارک کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا۔

.

اسی بارے میں