فلپائن:ہلاکتیں 650 سے زائد، سینکڑوں لاپتہ

سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں

فلپائن میں امدادی کارکن طوفان اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واشي نام کے سمندری طوفان کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش کے بعد جنوبی فلپائن میں آنے والے سیلابی ریلوں سے ساڑھے چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آٹھ سو سے زائد اب بھی لاپتہ ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں فلپائن کے جنوب میں واقع منڈاناؤ جزیرے پر ہوئی ہیں۔ اس جزیرے پر شدید بارش کے بعد آدھی رات کو اچانک سیلاب آ گیا اور لوگوں کو کچھ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں لینے کوئی نہیں آیا جس سے اس بات کا امکان ہے کہ ان کے پورے خاندان ہی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔

فلپائن میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ بینیٹو راموس نے کہا ہے کہ منڈاناؤ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جزائر پر چوبیس گھنٹے میں پچیس ملی میٹر بارش ہوئی جس کے بعد وہاں کی ساری ندیوں میں طغیانی ہے۔

بینیٹو راموس نے کہا ’الیگان اور كاگيان ڈے اورو شہروں میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہے۔ ہزاروں لوگ جزیرے کے اونچے مقامات پر نقل مکانی کر گئے ہیں۔‘

فلپائن میں فوج کے ترجمان کے مطابق دس ہزار اہلکار امدادی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

فلپائن کے قدرتی آفات سے نمنٹنے کی کونسل کے مطابق اتوار کو بھی پینتیس ہزار افراد حکومتی پناہ گاہوں میں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اتوار کو بھی پینتیس ہزار افراد حکومتی پناہ گاہوں میں موجود تھے

فلپائن کی قومی ریڈ کراس نے مرنے والوں کی تعداد چھ سو باون بتائی ہے جبکہ آٹھ سو آٹھ افراد لاپتہ ہیں۔

ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دو سو انتیس افراد كاگيان ڈے اورو جبکہ ایک سو پچانوے الیگان میں مارے گئے جبکہ بقیہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق دیگر جنوبی اور وسطی علاقوں سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سی لاشوں کو لینے کوئی نہیں آیا جس سے لگتا ہے کہ مکمل خاندان بھی ہلاک ہوئے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’متاثرہ علاقہ اتنا وسیع اور بڑا ہے کہ ہم تلاش کرنے کے لیے ہر جگہ نہیں جا سکے ہیں‘۔

فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں۔ ستمبر میں دو بڑے طوفانوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں