مخملی انقلاب کے روحِ رواں کی یاد میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واکلاو ہیول کو دنیا بھر میں جمہوریہ چیک کا حقیقی سفیر سمجھا جاتا تھا

جمہوریہ چیک کے پہلے صدر واکلاو ہیول کی وفات پر دنیا بھر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ پچھہتر سالہ ہیول اتوار کی صبح طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

واکلاو ہیول اور چیکوسلواکیہ کے عوام کے لیے سنہ 1989 وہ سال تھا جب ’ویلوٹ ریوولیوشن‘ یا مخملی انقلاب کے نتیجے میں ہیول نے عوامی طاقت کی مدد سے ملک سے کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

دنیا حیران رہ گئی اور چند ہفتوں میں ہی یہ منحرف منصف ملک کا صدر بن گیا۔

واکلاو ہیول انیس سو چھتیس میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک کامیاب انجینئر تھے اور بقول واکلاو کے ان کا تعلق ایک امیر خاندان سے تھا۔

لیکن جب کمیونسٹ اقتدار میں آئے تو واکلاو کے خاندان سے سب کچھ چھن گیا۔ نئی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ’بورژوا طبقہ‘ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیول کو سکینڈری تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لیے

تاہم ہیول نے اپنے طور پر تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کیا۔ وہ دن میں بطور لیبارٹری ٹیکنیشن کام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نائٹ سکول میں پڑھنے لگے۔

سنہ انیس سو اڑسٹھ اپنے ساتھ الیگزینڈر ڈبسیک کی قیادت میں ’پراگ سپرنگ‘ لایا جو کہ چیکوسلواکیہ میں امید اور اصلاح کی پہلی کرن ثابت ہوئی۔

ہیول جو اب تک ایک کامیاب مصنف بن چکے تھے اپنے ڈراموں میں کھلے عام کمیونسٹوں کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے اور ان کے اس عمل کو فوری طور پر عالمی پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔

لیکن سوویت یونین افواج کے چیکوسلواکیہ میں داخلے نے ہیول اور ان کی نسل کے خواب کچل کر رکھ دیے اور اچانک ہی ان کی تصانیف پر ان کے اپنے وطن میں پابندی لگا دی گئی۔

ہیول نے ایک ایکٹ پر مشتمل کئی ڈرامے تحریر کیے جو کہ نجی محافل میں دکھائے جاتے تھے۔ ان کا یہ زیرِزمین تھیٹر سیاست کا مرکز بن گیا لیکن ہیول خود کو ایک فنکار سے زیادہ کچھ کہلانے پر تیار نہ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیول کی وفات پر دنیا بھر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا

ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ ’میں کبھی بھی سیاسی مصنف نہیں بننا چاہتا تھا۔ میرے خیال میں اچھے مصنف، اچھا فن اور خصوصاً اچھا تھیٹر ہمیشہ سیاسی ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ مصنف اور ہدایتکار سیاسی بننا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ یہ تھیٹر کی روح میں شامل ہے‘۔

چند برس بعد انہوں نے جمہوری تبدیلی کے لیے میثاقِ 77 تحریک کے قیام میں مدد دی اور اس وقت تک وہ چیکوسلواکیہ کی مشہور ترین منحرف ہستی بن چکے تھے۔

انہیں ’حکومت مخالف حرکات‘ کے مبینہ جرم میں جیل بھیج دیا گیا اور وہاں سے رہائی کے بعد بھی ان کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی۔

انیس سو نواسی کے اختتام تک حالات ایسے ہوئے کہ ہیول انہیں افراد سے ملک کے مستقبل پر بات چیت کرتے نظر آئے جنہوں نے انہیں جیل بھیجا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کمیونسٹ پارٹی انتشار کا شکار تھی اور اس کی جگہ جمہوریت لے رہی تھی۔

اور پھر مخملی انقلاب کے نام سے یاد کیے جانے والے اٹھارہ دن کے پرامن مظاہروں اور ہڑتالوں کے بعد کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

دسمبر انیس سو نواسی میں ہیول کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ ماضی کے مشرقی یورپی رہنماؤں کے برعکس ہیول ایک کھلے ذہن اور مزاج کے مالک صدر ثابت ہوئے۔ راک موسیقی کے شائق ہونے کے ناتے انہوں نے امریکی موسیقار فرینک زاپا کو اعزازی ثقافتی سفیر مقرر کیا۔

لیکن حالات جلد ہی بدلتے گئے اور سلواکین قوم پرستوں نے آزادی کے حق میں مہم چلائی اور آزادی حاصل بھی کر لی اور یوں ہیول کا پیارا وطن دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔

ہیول نے صدارت سے استعفٰی دے دیا لیکن چند ماہ بعد جنوری انیس سو ترانوے میں انہیں نئی جمہوریہ چیک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2003 میں دوسری مرتبہ عہدۂ صدارت کی مدت مکمل کرنے کے بعد ہیول ریٹائر ہو گئے

ان کے دورِ صدارت میں جمہوریہ چیک میں کمیونزم سے کیپیٹل ازم تک منتقلی کا عمل مکمل ہوا۔ اس عمل کے دوران بڑے پیمانے پر نجکاری کی گئی اور ہیول نے ریاستی اثاثوں کی فروخت میں بدعنوانی پر کڑی تنقید کی۔

آنے والے برسوں میں واکلاو ہیول کی صحت خراب ہوتی گئی۔ انہیں پھیھڑوں کا کینسر ہوگیا اور علاج کے دوران ان کے پھیھڑے کا ایک حصہ بھی کاٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ وہ نمونیا کا بھی شکار ہوئے۔

سنہ 2003 میں دوسری مرتبہ عہدۂ صدارت کی مدت مکمل کرنے کے بعد جب وہ ریٹائر ہوئے تو انہوں نے اپنی توانائیاں دنیا بھر میں حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم کارکنوں کی مدد کے لیے وقف کر دیں۔

ہیول نے لکھنے لکھانے کا عمل بھی دوبارہ شروع کیا اور ایک نیا ڈرامہ تحریر کیا جس کا عنوان ’لیونگ‘ تھا۔ یہ ڈرامہ سنہ 2008 میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد چوہتر برس کی عمر میں ہیول نے بطور فلم ہدایتکار اپنے کیرئر کا آغاز کیا اور اسی ڈرامے پر رواں سال کے آغاز میں فلم بنائی۔

اگرچہ جمہوریہ چیک کے چالاک سیاستدانوں نے ہیول کو ملک کے سیاسی منظرنامے تو ہٹا دیا لیکن وہ دنیا بھر میں جمہوریہ چیک کے حقیقی سفیر سمجھے جاتے رہے۔

واکلاو ہیول مشہور ہونے کے شوقین نہ تھے اور ایک عرصے سے مکمل طور پر لکھنے لکھانے کے عمل کی جانب واپس جانا چاہتے تھے جو کہ شاید عوام میں ان کی مقبولیت اور احترام کی بڑی وجہ بھی ہے۔

واکلاو ہیول وہ شخص تھے جنہوں نے نہ صرف ایک کمیونسٹ حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے ایسا کسی خونریزی کے بغیر حاصل کیا۔