فلپائن: ہلاک شدگان کی اجتماعی تدفین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریڈ کراس نے مرنے والوں کی تعداد چھ سو باون بتائی ہے جبکہ آٹھ سو آٹھ افراد لاپتہ ہیں

جنوبی فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ میں سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کی آخری رسومات اجتماعی طور پر منعقد کی جا رہی ہیں۔

منڈاناؤ کے شہر الیگان میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کو مستقبل میں شناخت کے امکان کو مدِنظر رکھتے ہوئے نشانیوں کے ساتھ دفنایا جا رہا ہے۔

واشي نامی سمندری طوفان کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش کے بعد جنوبی فلپائن میں آنے والے سیلابی ریلوں سے ساڑھے چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آٹھ سو سے زائد اب بھی لاپتہ ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں فلپائن کے جنوب میں واقع منڈاناؤ جزیرے پر ہوئی ہیں۔ اس جزیرے پر شدید بارش کے بعد آدھی رات کو اچانک سیلاب آ گیا اور لوگوں کو کچھ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔

سیلاب سے علاقے میں ذرائع آمدورفت بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دوردراز دیہات تک جانے والی بیشتر سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

الیگان میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ لاوراث لاشوں کو پیر کو اجتماعی قبروں میں دفنانا شروع کر رہے ہیں کیونکہ ان کی حالت بےحد خراب ہو چکی ہے۔ محکمۂ صحت کی اہلکار لڈی ولارن کے مطابق جن تھیلوں میں یہ لاشیں دفنائی جائیں گی ان پر نشانیاں لگائی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی نشاندہی ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اجتماعی قبر میں دفنانے سے قبل تھیلوں پر مرنے والے کے جسمانی خدوخال کے بارے میں تفصیلات درج کریں گے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں لینے کوئی نہیں آیا جس سے اس بات کا امکان ہے کہ ان کے پورے خاندان ہی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔

فلپائن کی قومی ریڈ کراس نے مرنے والوں کی تعداد چھ سو باون بتائی ہے جبکہ آٹھ سو آٹھ افراد لاپتہ ہیں جبکہ فلپائن میں فوج کے ترجمان کے مطابق دس ہزار اہلکار امدادی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

فلپائن کے قدرتی آفات سے نمنٹنے کی کونسل کے مطابق اتوار کو بھی پینتیس ہزار افراد حکومتی پناہ گاہوں میں موجود تھے۔

فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں۔ ستمبر میں دو بڑے طوفانوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں