’شام میں درجنوں منحرف فوجی ہلاک‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ادلب میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکار حکومت سے منحرف ہو چکے ہیں۔

شام سے اطلاعات ہیں کہ فوج سے منحرف ہونے والے درجنوں اہلکاروں کو شام کی فوج نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

ان افراد کو اس وقت گولیاں ماریں گئیں جب حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کے لیے وہ ایک فوجی اڈے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شہر ادلب میں ستر کے قریب منحرف فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں کیونکہ شام میں غیر ملکی میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے۔

اس سے قبل شام نے عرب لیگ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے ملک میں غیر ملکی مبصرین کو آنے کی اجازت دے دی ہے۔

شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ عرب لیگ نے شام کی جانب سے معاہدے میں تجویز کردہ ترامیم کو تسلیم کر لیا ہے۔

عرب لیگ کا کہنا ہے کہ اس کے مصبرین رواں ہفتے ہی شام جائیں گے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رکن ممالک نے شام میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی سختی سے مذمت کی ہے جس میں مارچ سے اب تک پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے شام کی حکومت سے انسانی حقوق کی پامالی فوری بند کروانے اور عرب لیگ کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لندن میں قائم شام کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق پیر کے روز ادلب میں فوجی اڈے سے فرار کی کوشش کرنے والے اہلکاروں پر مشین گن سے فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے کے بارے میں ایک انسنی حقوق کی مقامی تنظیم نے بھی اطلاع دی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والے زخمی افراد نے بتایا ہے کہ فائرنگ سے کوئی ستر افراد مارے گئے ہیں۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکار حکومت سے منحرف ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق ان کے علاوہ پیر کو شام میں مختلف مقامات پر تیرہ مظاہرین ہلاک ہوئے۔

ادلب میں ہی مسلح باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

شام میں مظاہروں کا انتظام سنبھالنے والی تنظیم ’لبکل کوآرڈینشن کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ پیر کو شام کے مختلف شہروں میں اکتیس افراد ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب صدر بشارالاسد کی حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح جنگجو گروپ ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے شام کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت مبصرین کے ملک میں داخلے پر صرف اس لیے رضا مند ہوئی ہے کیونکہ وہ بحران کا سیاسی حل چاہتی ہے۔

’ہم اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں اور شام کو جدید اور محفوظ بنانا چاہتے ہیں ایک ایسا شام جو جمہوریت کے لیے ایک مثال ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام کی سالمیت کو تحفظ حاصل ہے کیونکہ عرب لیگ نے معاہدے میں تبدیلیاں منظور کر لی ہیں۔

عرب لیگ کے مبصرین شام کی حکومت کے حفاظت میں کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گے لیکن انہیں حسّاس فوجی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ مبصرین بھی شامی حکومت کہ اس موقف کی حمایت کریں گے جس کے مطابق مسلح گروہ ہی سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنا کر تشدد پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔

عرب لیگ کے مبصرین ایک ماہ تک شام میں رہ کر انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اگر فریقین نے اتفاق کیا تو یہ مزید ایک ماہ تک وہاں رکیں گے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد سریین نیشنل کونسل نے حکومت کے اس فیصلے کو ایک چال قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

اسی بارے میں