’یہودی بستیاں، اسرائیل کی شدید مذمت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام علاقائی اور سیاسی گروپوں نے غیر معمولی اقدام کے طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔

سلامتی کونسل میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر کے سبب مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سفارت کاروں نے آبادکاروں کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تاہم اس تنقید میں اسرائیل کے قریبی ساتھی امریکہ نے حصہ نہیں لیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ابھی تک سفارت کاروں کے مذمتی بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں ایک ہزار مکانات کی تعمیر کے حوالے سے ٹینڈر جاری کیے تھے۔

سلامتی کونسل میں یورپی اتحاد، نان الائنڈ موومنٹ، عرب ممالک کے گروپ اور ابھرتے ہوئے ممالک کے گروپ آئی بی ایس اے کے نمائندوں نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔

یورپی اتحاد کی جانب سے برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ کا کہنا ہے کہ’اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فسطینی علاقے میں بستیوں کی تعمیر کے مسلسل اعلانات نے ایک شدید المناک پیغام دیا ہے۔‘

اس کے علاوہ سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت کے حامل ملک روس نے بھی اسرائیلی پالیسی کی مذمت کی ہے۔

اتفاق رائے ہونے کے باوجود سفارت کار سلامتی کونسل کی جانب سے مشترکہ طور پر بیان جاری کرنے کی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ مشترکہ بیان کو امریکہ ویٹو کر دے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

اسی بارے میں