’ایران میں روپوش القاعدہ کے معاون پر انعام‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ نے القاعدہ کے ایک اہم معاون اور سرمایہ فراہم کرنے والے شخص کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والا شامی شہری یاسین الصوری ایران سے تمام معاملات چلا رہا ہے۔

امریکہ محکمہ خارجہ کے مطابق انعامی رقم کے اعلان کا مقصد مالی نیٹ ورک کو توڑنا ہے اور یہ شخص سال دو ہزار پانچ سے ایرانی سرحد کے اندر ہے۔

ایک اہلکار رابرٹ ہارٹنگ کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقے سے ایک دہشت گرد سرمایہ دار کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رابرٹ ہارٹنگ کا کہنا ہے کہ’یہ شخص ایک پیشہ وار دہشت گرد ہے جو القاعدہ کے لیے کام کرتا ہے اور اسے ایرانی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔‘

’دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے لیے مالی وسائل جمع کرنے والی مرکزی شخصیت ہے اور یہ امریکی مفادات کے لیے مسلسل ایک خطرہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ الصوری جسے عزالدین عبدالعزیز خلیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، القاعدہ اور ایران حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت سرگرم ہے اور یہ ایران سے ہمسایہ ممالک خاص طور پر افغانستان، پاکستان اور عراق سے رقم اور بھرتی کیے گئے افراد کو منتقل کرتا ہے۔

اس شخص کو پانچ دیگر ممبران سمیت رواں سال جولائی میں امریکہ محکمہ خزانہ نے بلیک لسٹ کیا تھا۔

اسی بارے میں