فلپائن طوفان: ایک ہزار سے زائد لاپتہ

طوفان زدہ علاقے کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی تدفین کی گئی ہے

فلپائن کے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ کن طوفان واشی کے باعث اب بھی ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

سنیچر کے روز منڈاناؤ جزیرے سے ٹکرانے والے اس طوفان اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سیلاب سے دو مزید شہر بری طری تباہ ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے لاپتہ افراد کی تعداد صرف اکاون بتائی گئی تھی لیکن کئی لوگوں کو فوری طور پر اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کے کون کون سے رشتہ دار لاپتہ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کیٹ میک گیون کا کہا ہے کہ حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد اب بھی بالکل صحیح نہ ہو کیونکہ کئی ایسے خاندان جن کے تمام افراد ہی طوفان کی نذر ہو گئے ان کے بارے میں معلومات ملنا مشکل ہے اور کئی لاپتہ لوگ وہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کا حکام کو اندازہ نہیں تھا۔

حکومت کے مطابق طوفان اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار اسی ہے جبکہ سیلاب سے تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ حکام یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کے سبب دس ہزار سے زیادہ گھر تباہ ہوگئے ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں فلپائن کے جنوب میں واقع منڈاناؤ جزیرے پر ہوئی ہیں۔ اس جزیرے پر شدید بارش کے بعد آدھی رات کو اچانک سیلاب آ گیا اور لوگوں کو کچھ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔

سیلاب سے علاقے میں ذرائع آمدورفت بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دوردراز دیہات تک جانے والی بیشتر سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔ ہزاروں متاثرین حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے راحت کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

امدادای ایجنسیوں نے مقامی افراد کی مدد کے لیے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے متاثرین کی مدد کے لیے تقریبا اٹھائیس ملین ڈالر کی مدد کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقے میں جلد سے جلد حالت بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک بار اگر وبا پھیل گئی تھی تو بھوک سے جھوجھ رہے لوگوں کی مشکلیں مزید بڑھ جائیں گے۔

فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں۔ ستمبر میں دو بڑے طوفانوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں