نائجیریا بم دھماکوں کی عالمی سطح پر مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا کے مضافات میں اتوار کے روز کرسمس تقریبات کے دوران ہونے والے بم دھماکوں کی بین الاقومی سطح پر شدید مزمت کی گئی ہے۔

ان دھماکوں میں تقریباً چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی ایوانِ صدر وائٹ ہاؤس نے اِن حملوں کو بلا جواز تشدد قرار دیا اور اس کے ذمہ داراوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے نائجیریا کو مدد کی پیشکش کی۔

برطانیہ اور جرمنی نے اِن حملوں کو بزدلانہ کہا جبکہ کیتھولِک عیسائیوں کے مرکز ویٹی کن کی طرف سے کرسمس کی تقریبات پر ہونے والے حملوں کو قابلِ نفرت دہشتگردی قرار دیا گیا۔

نائجیریا کہ صدر گُڈلک جوناتھن نے کہا کہ یہ حملے، آزادی پر پر حملے تھے۔

نائجیریا کی اسلامی شدت پسند تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ دھماکے کیے ہیں۔ ان کے بقول ان حملوں میں سینٹ تھریسا چرچ پر بھی حملہ شامل ہے جہاں کرسمس کی تقریبات ہو رہی تھیں۔ ایک اور دھماکہ دارالحکومت کے قریب شہر جوس میں چرچ میں ہوا۔

اس کے علاوہ نائجیریا کی شمالی ریاست میں تین حملے ہوئے جن میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مدالہ میں سینٹ تھریسا گرجا میں جو کہ شہر کے وسط سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور ہے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور جس کی وجہ سے دھماکے میں اس قدر جانی نقصان ہوا۔

چند ہی گھنٹوں بعد مرکزی قصبے جوس میں جو کہ مذہبی اور لسانی طور پر منقسم شہر ہے، ’مائنٹن آف فائر اینڈ مراکلز‘ نامی گرجا میں بھی ایک دھماکہ ہوا۔ جائے وقوعہ پر موجود خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایک کیمرہ مین نے بتایا کہ انہوں نے ایک پولیس افسر کو دھماکے کی وجہ سے زخمی دیکھا۔

نیشنل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کے ترجمان یوشاء شوئیب نےجنہوں نے پہلے اس بم دھماکے کی تصدیق کی تھی، ایک اور بیان میں کہا کہ دھماکہ گرجا کے اندر نہیں بلکہ ایک قریبی ہائی وے پر ہوا۔

ویٹیکن نے اس دھماکے کی مذمت کی۔ ویٹیکن کے ترجمان پادری فڈریکو لومبارڈی نے رائٹرز کو بتایا کہ ویٹیکن امید کرتا ہے کہ یہ فسادات نائیجیریا کے عوام کے امن قائم کرنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں گے۔

نائجیریا میں سرگرم مسلح گروہ بوکو حرام نائیجیریا میں اسلامی شرعی نطام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ نائیجیریا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔

رائٹرز کے ایک رپورٹر نے جائے وقوعہ سے اطلاع دی کہ پولیس نے گرجا کے اردگرد کے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ رپورٹرز نے ابوجا سے شمالی نائیجیریا کو جانے والے شاہراہ پر ہزاروں نوجوانوں کو روڈ بلاک کرتے ہوئے دیکھا۔ پولیس اور فوج نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

بوکو حرام کو درجنوں بم دھماکوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے اس سال ابوجا میں دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی جس میں نائیجیریا میں ہونے والا پہلا خودکش حملہ بھی ہے۔ اس حملے میں نائیجیریا کے اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا اور تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں