مزید مبصرین کی آمد، شام میں تشدد جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں گزشتہ نو ماہ سے حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

شام میں قیامِ امن کے منصوبے کے تحت عرب لیگ کے پچاس مبصرین پر مشتمل ایک گروپ شام پہنچ گیا ہے۔

ان مبصرین کی شام آمد کا مقصد حکومتی افواج اور صدر بشار الاسد کے مخالف مظاہرین کے درمیان جاری ان پرتشدد جھڑپوں کا خاتمہ کروانا ہے جن میں اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق پانچ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق مبصرین کی آمد سے قبل پیر کو بھی شام میں مظاہروں کے بڑے مرکز حمص میں فائرنگ اور گولہ باری سے تیس افراد مارے گئے۔

تشدد کے تازہ واقعات حمص کے علاقے بابا عمر میں ہوئے ہیں، جس کا سکیورٹی فورسز نے محاصرہ کر رکھا ہے۔

لندن سے کام کرنے والی حقوقِ انسانی کی شامی تنظیم ’سیرئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس‘ کے مطابق پیر کو صرف اسی علاقے میں اٹھارہ افراد مارے گئے جبکہ دیگر گیارہ افراد شہر کے دیگر علاقوں اور ایک خاتون تلبیسہ کے نزدیک ہلاک ہوئی۔

شام کے اہم اپوزیشن گروپ ’سیرین نیشنل کاؤنسل‘ (ایس این سی) نے عرب لیگ کے مبصرین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر حمص کا دورہ کریں اور خاص طور پر محاصرے والے علاقے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کو شام پہنچنے والے گروپ میں پچاس مبصرین اور عرب لیگ سیکرٹیریٹ کے دس اہلکار شامل ہیں۔ اس سے قبل نو ارکان پر مشتمل ایک ایڈوانس ٹیم پہلے ہی شام پہنچ چکی ہے۔ اس مشن میں کل دو سو مبصرین شامل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی یہ واضح نہیں کہ شام کے حکام مبصرین سے کس حد تک تعاون کریں گے

ان افراد کا مشن یہ جائزہ لینا ہے کہ کہ عرب لیگ کے ساتھ شام جس معاہدے پر رضامند ہوا ہے اس کے تحت اس نے ان علاقوں سے فوج ہٹائی ہے یا نہیں جہاں پرتشدد واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ یہ مبصرین چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہوکر حالات کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ہوں گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ مبصرین کے لیے حمص اس نوعیت سے امتحان کی آماجگاہ ثابت ہو سکتا ہے کہ آیا انہیں آزادانہ معائنے کی اجازت ہوگی اور کیا وہ پر امن پر طور اپنا مشن پورا کر سکیں گے یا نہیں۔

شام میں تازہ تشدد سے متعلق انٹرنیٹ پر جو فوٹیج جاری کی گئی ہے اس میں زبردست گولہ باری ہوتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہے۔ اس میں خون میں لت پت پڑي چار نوجوانوں کی لاشیں اور ایک خاتون کو عالمی برادری سے مدد کے لیے اپیل کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ شام کے حکام مبصرین سے کس حد تک تعاون کریں گے۔ تاہم شام کی حکومت نے کہا تھا کہ عرب لیگ کے مبصرین کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہوگی لیکن وہ بعض حساس فوجی علاقوں میں نہیں جا سکیں گے۔.

اسی بارے میں