طالبان مذاکراتی دفتر پر افغانستان رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

افغانستان نے کسی بھی اسلامی ملک میں طالبان کا نمائندہ دفتر کھُلنے کی صورت میں، اُن سے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق، افغان امن کونسل کے ایک اجلاس کے بعد، گیارہ نکاتی دستاویز، غیر ملکی سفارتخانوں کو بھیجی گئی ہے جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی شرائط کا تعین کیا گیا ہے۔

دستاویز ترکی اور سعودی عرب میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دفتر کو ترجیح دی گئی ہے البتہ کہا گیا ہے کہ کسی دوسرے اسلامی ملک میں، ایسا دفتر ہونے کی صورت میں بھی افغان حکومت کو اعتراض نہیں ہو گا۔

چند روز قبل اطلاعات آئیں تھیں کہ قطر کی حکومت نے دوحا میں طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد بطورِ احتجاج افغانستان نے قطر سے اپنے سفیر کو ’مشاورت‘ کے لیے واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اس(طالبان کے دفتر) معاملے میں قطر نے افغانستان سے مکمل طور پر مشاورت نہیں کی تاہم اب خیال ہے کہ اب افغان حکومت دوحا میں طالبان سے مذاکرات پر رضامند ہو جائے گی۔

افغان حکومت کی طرف سے سفارتخانوں کو بھیجی گئی دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ اِس دفتر میں کسی غیر ملکی طاقت کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی البتہ، تمام مذاکرات میں پاکستان کو ضرور شامل کیا جائے کیونکہ طالبان کے کئی رہنماء پاکستان میں موجود ہیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی ایک عشرہ طویل جنگ کا سیاسی حل نکل آئے اور افغان صدر حامد کرزئی بھی قیامِ امن کے لیے عسکریت پسندوں سے بات چیت کے حامی ہیں۔

تاہم ان کوششوں کو رواں برس ستمبر میں اس وقت شدید دھچکا پہنچا تھا جب طالبان کا نمائندہ بن کر آنے والے ایک حملہ آور نے خودکش حملے میں افغانستان کے مرکزی امن مذاکرات کار برہان الدین ربانی کو ہلاک کر دیا تھا۔

افغان صدر نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ پروفیسر ربانی پر حملہ کرنے والا پاکستانی شہر کوئٹہ سے آیا تھا۔

انہوں نے امن بات چیت کی فوری بحالی کے خیال کو رد کرتے ہوئے کہا تھا افغانستان پاکستان سے اسی وقت بات کرے گا جب وہ طالبان کے بارے میں معلومات دے گا۔ اس سے قبل افغان صدر یہ کہتے رہے تھے کہ طالبان سے بات چیت کے معاملے میں جس فریق سے بات ہو سکتی ہے وہ پاکستان ہے۔

اسی بارے میں