کم آن شمالی کوریا کے سپریم کمانڈر مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت بڑی تعداد میں فوجی اور شہری درالحکومت کے مرکزی چوک میں سر جھکائے کھڑے رہے

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں کم جونگ ال کے سب سے چھوٹے بیٹے کم جونگ آن کو ملک کا سپریم سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

کم جونگ آن نے اپنے والد کم جونگ ال کی یاد میں منعقدہ تقریب کی صدارت کی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے کم جونگ آن کا تعارف ’جماعت، ریاست اور فوج کا سپریم لیڈر‘ کے طور پر کروایا ہے۔

کم جونگ ال سترہ دسمبر کو انہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

کم جونگ ال کی زندگی تصاویر میں

وہ سنہ انیس سو چورانوے میں اپنے والد کم ال سونگ کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے تھے۔

کم جونگ ال کی آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ بدھ کو دارالحکومت پیانگ یانگ میں شروع ہوا تھا اور جمعرات کو اس سلسلے میں تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

ٹیلی ویژن پر نظر آنے والے مناظر میں بہت بڑی تعداد میں فوجی اور شہری دارالحکومت کے مرکزی چوک میں سر جھکائے کھڑے دکھائی دیے ہیں۔

اس موقع پر کم جونگ ال کے بیٹے کم یونگ نیم نے خطاب کیا جبکہ کم جونگ ال کے جانشین کم جونگ آن بھی اس موقع پر موجود تھے۔

تعزیتی تقریب کے موقع پر ملک بھر میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جس کے بعد پورے ملک میں ٹرینوں اور بحری جہازوں نے اپنے ہارن بجا کر آنجہانی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس سے قبل بدھ کو کم جونگ ال کے جنازے کو تدفین سے قبل دارالحکومت کی مختلف شاہراہوں سے گزارا گیا اور اس موقع پر لوگوں کے رونے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کم جونگ ال کے جنازے کو تدفین سے قبل دارالحکومت کی مختلف شاہراہوں سے گزارا گیا

کم جونگ ال کے جانشین کم جونگ آن بھی کم جونگ ال کے تابوت لیجانے والی گاڑی کے ساتھ خاموشی سے چلتے رہے۔

کم جونگ آن کی عمر تیس سال کے قریب ہے اور وہ فور سٹار جنرل ہیں۔

آخری رسومات میں کم جونگ کے ساتھ ان کے عزیز چانگ سونگ ٹیک بھی موجود ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ کم جونگ آن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کو اقتدار میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔

کم جونگ ال کی وفات کے بعد شمالی کوریا اور اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک میں بےچینی دیکھی گئی ہے۔

مبصرین آخری رسومات میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور اس دوران نظر رکھیں گے کہ کون سا حکومتی اہلکار نمایاں پوزیشن میں نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں