شام: فوج کی فائرنگ سے چالیس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption چند مبصرین حمص کے سب سے زیادہ متاثرہ حصوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں

شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے فائرنگ کر کے چالیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے مضافات کے علاوہ ان علاقوں میں لوگوں کے ہجوم کو نشانہ بنایا جہاں پر عرب لیگ کے مصبرین کی آمد متوقع تھی۔

عرب لیگ کے مبصرین منگل کو شام پہنچے تھے اور انہوں نے جمعرات کو شام کے تین شہروں حُمص، درعا اور ادلِیب کا دورہ کر رہے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شام میں عرب لیگ کے مصبرین کی آمد پر پرتشدد واقعات میں کمی کی بجائے بظاہر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اِن مبصرین کی شام آمد کا مقصد، مختلف شہروں کا جائزہ لے کر، اس بات کا تعین کرنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت، حزبِ مخالف کے کارکنوں پر تشدد کے خاتمے کے وعدے کی کس حد تک پاسداری کر رہی ہے۔

لیکن اس ہفتے کے آغاز سے، شام کا دورہ شروع کرنے والے مبصرین کی موجودگی میں، حکومت مخالف کارکنوں کے خلاف سرکاری فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کی اطلاعات لگاتار موصول ہو رہی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حُمص کا دورہ کرنے والے چند مبصرین، شامی سکیورٹی فورسز کو جھانسہ دے کر، شہر کے سب سے زیادہ متاثرہ حصوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن حُمص کے ایک کارکن، خالد عبدالصالح کا خیال ہے کہ عرب لیگ کے مبصرین حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ’اگرچہ یہ مبصرین عرب لیگ کے نمائندے ہیں لیکن واضح ہو چکا ہے کہ اِن کا جھکاؤ حکومت کی طرف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مبصرین حُمص کے حالات دیکھ کر، انہیں تسلی بخش قرار دے دیں، حالانکہ اُن کی موجودگی میں ہی وہاں، سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پندرہ افراد بھی مارے جائیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان افراد کو نو ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

عرب لیگ کے مشن کے سربراہ نے منگل کو حمص شہر میں صورتحال کو حوصلہ افزاء قرار دیا تھا۔ عرب لیگ کا ایک پچاس رکنی گروپ منگل کو شام پہنچا تھا اور حمص سے کام کا آغاز کیا تھا اور اسی دن شہر میں ہزاروں افراد نے حکومت مخالف مظاہرے کیے تھے۔

انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں مشتعل سوگواروں کو، بظاہر ایک نوجوان کی لاش، ایک گاڑی کے بونٹ پر رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق، یہ گاڑی عرب لیگ کے مبصرین کی ہے۔

ادھر شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس نے صدر بشارالاسد کے خلاد نو ماہ سے جاری بغاوت کے دوران گرفتار کیے جانے والے سات سو پچپن قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق رہا کیے جانے والے یہ افراد حالیہ مظاہروں میں تو شریک تھے ’لیکن ان کے ہاتھ کسی کے خون سے نہیں رنگے تھے‘۔ان تمام قیدیوں کی رہائی عرب لیگ کے ساتھ کیے گئے ایک امن معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چودہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ حکومتی کریک ڈاؤن میں مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں