سیاسی رہنماؤں میں کینسر کا ذمہ دار امریکہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا

دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنماؤں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنماؤں کو سرطان کا مرض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔

ہیوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔

گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہو گئی ہیں۔ اُن کے علاوہ پیراگوئے کے صدر فرناندو لُوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لُولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔

تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ’ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں کا پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقیناً، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے‘۔