روس:بھگودگیتا پر پابندی کی درخواست رد

گیتا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روس میں مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اس کتاب میں جنگ و جدل کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا ہے۔

روس میں، سائبیریا کی ایک عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب، بھگود گیتا کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کتاب میں جنگ و جدل کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا ہے اور بھگود گیتا کا روسی ترجمہ، سماجی بے راہروی اور نفرت پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔

سائبیریا کے علاقے ٹامسک کے درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ بھگود گیتا کو اُن کتابوں کی فہرست میں شامل کیا جائے جن پر روس میں پابندی ہے۔

سائبیریا کی عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

بھارت سمیت، دنیا بھر کے ہندوؤں نے اِس درخواست کی مذمت کی تھی اور بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ بھگود گیتا کو قومی کتاب قرار دیا جائے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی بھگود گیتا پر لگائے جانے والے الزامات کو ’لغو اور مہمل‘ کہہ کر مسترد کر دیا اور کہا تھا کہ سائبیریا کی عدالت میں گیتا کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ ’بعض گمراہ اور لاعلم لوگوں کی حرکت ہے‘۔

بھگود گیتا روس میں ہندوؤں کے بگھوان شری کرشن کے نام سے منسوب ایک بین الا قوامی مزہبی ادارے ’اسکان‘ کے ذریعے تقسیم کی جاتی رہی ہے۔ ماضی میں روس میں اسکان کے ارکان بھی کئی بار کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

بھگودگیتا ہندوؤں کی رمزیہ کتاب مہا بھارت کا ایک حصہ ہے اور اسے ہندوؤوں کی مقدس ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ دور قدیم میں بھگوان کرشن اورایک شہزادے ارجن کے درمیان مکالموں کی شکل میں ہے۔ ارجن کی سلطنت ان کے قریبی رشتے داروں نے غصب کر لی تھی اور اسے واپس لینے کے لیے انہیں جنگ کا سامنا تھا لیکن وہ اپنے قریبی رشتے داروں کے خلاف جنگ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔

اس مرحلے پر بھگوان کرشن انہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ حق کے لیے جنگ کرنا جائز ہے اور سچائی کی جنگ میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ جنگ میں سامنے کون کھڑا ہے۔

اسی بارے میں