آبنائےہرمز کی بندش،دھمکی پر امریکی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس بحری راستے کو بند کرنا ایرانی سکیورٹی فورسز کے لیے بہت آسان ہے:ایرانی بحریہ

امریکہ نے دنیا میں تیل برداری کے ایک اہم بحری راستے کو بند کرنے کی ایرانی دھمکی پر سخت تنبیہی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر مغربی ممالک نے اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر مزید پابندیاں لگائیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔

اس دھمکی پر امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ اس قسم کے کسی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحرین ، کویت ، قطر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بحرِ ہند سے جوڑتی ہے۔

دنیا بھر میں تیل لے جانے والے ٹینکرز میں سے چالیس فیصد اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔

ایران کی دھمکی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی ترجمان نے کہا ، ’ہم لوگ غلط نیت سے اٹھائے گئے کسی بھی اقدام سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں‘۔

تیل کی رسد کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے خلیج میں ایک امریکی بحری بیڑا موجود رہتا ہے۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز نہ صرف اس علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ایران سمیت خلیجی ممالک کی معیشت کی شہ رگ ہے‘۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی اس کے تیل اور مالیاتی شعبوں کو نشانہ بناتے ہوئے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی مغربی ممالک کی کوشش کی کے بعد سامنے آئی تھی۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا رحيمي نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ایران پر اور پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو ایک قطرہ تیل بھی آبنائے ہرمز سے ہو کر نہیں جا سکے گا‘۔

ایرانی بحریہ کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ اس بحری راستے کو بند کرنا ایرانی سکیورٹی فورسز کے لیے بہت آسان ہے۔

ایران کی اس دھمکی کے بعد تیل کی مارکیٹ پر تو کوئی اثر نہیں ہوا لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی اس وقت دیکھی گئی جب سعودی عرب کی وزارتِ تیل کے ایک اعلٰی اہلکار نے کہا کہ خلیج کے عرب ملک ایرانی تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کا اصل مقصد ایٹمی پروگرام کے اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔

مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوششوں کا الزام لگاتے آئے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں