کمپیوٹر ہیکنگ کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ ap

چین کی حکومت کمپیوٹر ہیک کرنے والوں کےخلاف کارروائی کر رہی ہے جو گھر بیٹھے لوگوں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات چرا کر ان سے رقم لوٹ لیتے ہیں۔

ہیکروں کو پکڑنے کے لیے حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ بڑے بڑے بینکوں کی ویب سائٹس انٹر نیٹ تلاش کے نتائج میں سب سے اوپر دکھائی دیں۔

چین میں ساڑھے چار کروڑ شہریوں کے بینکوں کے کھاتوں کی تفصیلات مختلف ہیکنگ حملوں میں چرائی جا چکی ہیں۔

حکومت جعل سازی کے ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے اور حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے انٹرنیٹ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

چین میں دس بڑے سرچ انجنوں نے ’اینٹی فشنگ‘ سکیم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارفین جو بینکوں کی ویب سائٹس استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ مطلوبہ ویب سائٹس پر ہی پہنچیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فشنگ حملوں میں صارفین کو ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جو لگتا ہے کہ بینکوں کی طرف سے آئے ہیں اور صارفین کو جعلی ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں۔

جب صارفین ان ویب سائٹس پر اپنی تفصیلات درج کرتے ہیں سائبر جرم کرنے والے ان کو فوراً ریکارڈ کر کے انھیں کھاتوں سے رقوم نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس بات کو یقینی بنا کر کے بینکوں کی ویب سائٹس تلاش کی صورت میں اوپر نظر آئیں حکومت کو امید ہے کہ لوگوں کے جعلی ویبٹ سائٹ کا شکار بننے کے امکان کم ہو جائیں گے۔

چند سرچ انجنز ایک خاص نشان بینکوں کی اصل ویب سائٹس کے سامنے لگائیں گے تاکہ لوگ اصلی اور جعلی ویب سائٹس میں تمیز کر سکیں۔