شام:’چالیس ہلاک، عوامی احتجاج کی اپیل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہزاروں احتجاجی مظاہرین درعا اور دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دُوما میں سڑکوں اور گلیوں میں نکلے

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین نے عوام سے جمعہ کو بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل کی ہے اور سکیورٹی فورسز پر مزید چالیس افراد کی ہلاکت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

مظاہروں کی تازہ اپیل ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب عرب لیگ کے مبصرین شام کے دورے کے دوران مختلف شہروں کا دورہ کر کے، اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت، حزبِ مخالف کے کارکنوں پر تشدد کے خاتمے کے وعدے کی کس حد تک پاسداری کر رہی ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شام میں عرب لیگ کے مبصرین کی آمد پر پرتشدد واقعات میں کمی کی بجائے بظاہر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف جمعرات کو ہی حزبِ مخالف نے فوج پر چالیس افراد کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق مظاہروں کی اپیل کا ایک مقصد مبصرین کو یہ دکھانا ہے کہ عوام کی کتنی بڑی تعداد حکومت کی جانب سے جمہوریت نواز تحریک دبائے جانے پر ناخوش ہے۔

عرب لیگ کے مبصرین منگل کو شام پہنچے تھے اور انہوں نے جمعرات کو شام کے تین شہروں حُمص، درعا اور ادلِیب کا دورہ کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

مبصرین کی موجودگی میں، حکومت مخالف کارکنوں کے خلاف سرکاری فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کی اطلاعات لگاتار موصول ہو رہی ہیں۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے جمعرات کو دارالحکومت دمشق کے مضافات کے علاوہ ان علاقوں میں لوگوں کے ہجوم کو نشانہ بنایا جہاں پر عرب لیگ کے مبصرین کی آمد متوقع تھی۔

Image caption مبصرین نے جمعرات کو شام کے تین شہروں حُمص، درعا اور ادلِیب کا دورہ کیا

جمعرات کو بھی ہزاروں احتجاجی مظاہرین جنوبی شہر درعا اور دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دُوما میں سڑکوں اور گلیوں میں نکلے۔ انہوں نے صدر بشار الاسد کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔

سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور بعض مقامات پر فائرنگ کی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قیامِ امن کے سلسلے میں آئے ہوئے عرب مبصرین کی موجودگی سے، حکومت مخالف مظاہرین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اس لیے شاید زیادہ سے زیادہ لوگ باہر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی کوششوں میں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چودہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ حکومتی کریک ڈاؤن میں مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں