حملے میں پینتیس افراد کی ہلاکت پر ترکی کا افسوس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہلاک ہونے والے کُرد باشندوں کی عمریں سولہ سے بیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

ترکی نے عراقی سرحد کے قریب ایک فضائی حملے میں پینتیس شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ترک وزیرِ اعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ بدھ کے روز کُرد آبادی کے ایک گاؤں پر ترکی کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے میں نوجوان سمگلروں کی ہلاکت ’بدقسمتی اور اداس کر دینے والا واقعہ ہے۔‘

ترک صدر عبداللہ گل نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ترکی کی فوج نے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے کرد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم واقعے کی سرکاری سطح پر تحقیقات جاری ہیں۔

ترک باغیوں کے کمانڈر اور کُردستان ورکرز پارٹی کے سربراہ نے کُردوں سے کہا ہے کہ وہ بقول ان کے ’اس قتلِ عام کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بغاوت کر دیں۔‘

بدھ کے روز ایف سول جیٹ طیاروں کی مدد سے کرد آبادی والے سرحدی علاقے میں کی گئی بمباری میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔

ترک وزیرِ اعظم کے مطابق حملے کے بعد معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والے افراد باغی نہیں بلکہ سمگلر تھے۔

کردوں کی حامی پیس اینڈ ڈیمو کریٹس پارٹی نے حملے کے مذمت کرتے ہوئے اسے قتلِ عام قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد سولہ سے بیس برس کے نوجوان تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرنے والوں کی تدفین کے موقع پر سوگوران نے وزیرِ اعظم طیب اردگان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں قاتل قرار دیا۔

اسی بارے میں