دنیا میں سالِ نو کا والہانہ استقبال

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لندن میں ڈھائی لاکھ افراد ٹیمز کے کنارے نئے سال کے استقبال کے لیے جمع ہوئے

نیوزی لینڈ سے نیویارک تک دنیا بھر میں لوگوں نے نئے عیسوی سال دو ہزار بارہ کے استقبال کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں شرکت کی ہے۔

دنیا میں سال نو کی تقریبات کا آغاز بحرالکاہل کے ممالک سے ہوا اور ایشیا اور یورپ کے بعد پہلے جنوبی اور پھر شمالی امریکہ میں الاسکا میں سالِ نو کے آغاز کے ساتھ یہ تقریبات اپنے اختتام کو پہنچیں۔

2012 کا پُرجوش استقبال: تصاویر

امریکی شہر نیویارک کے ٹائم سکوائر میں روایتی جوش و جذبے سے سال نو کا والہانہ استتقبال کیا گیا اور اس موقع پر لاکھوں افراد روایتی کرسٹل بال کو گرتا دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔

دنیا میں نئے سال کی تقریبات سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں شروع ہوتی ہیں تاہم اس بار بحرالکاہل کے جزائر سموؤا اور ٹوکیلو میں سب سے پہلے سال نو کا استقبال کیا گیا کیونکہ ان دونوں جزیروں نے اپنے معیاری وقت کو ایک دن آگے بڑھا لیا تھا۔

ان جزیروں میں انتیس دسمبر کے بعد اکتیس دسمبر کی تاریخ شروع ہو گئی اور یوں تیس دسمبر آیا ہی نہیں۔ دنیا میں سب سے آخر میں سال نو کا استقبال کرنے والے ان جزیروں میں سب سے پہلے تقریبات منعقد ہونے پر سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں جمع تھی۔

نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں خراب موسم کے باعث بہت سارے لوگوں کو کھلے آسمان تلے نئے سال کا جشن منسوخ کرنا پڑا تاہم شہر کے سکائی ٹاور میں نئے سال کا استقبال آتش بازی کے مظاہرے سے کیا گیا۔

آسٹریلوی شہر سڈنی میں بھی نئے سال کا والہانہ استقبال روایتی طور پر سڈنی ہاربر برج پر کیا گیا جہاں لاکھوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ زبردست آتشبازی کا مظاہرہ کیاگیا اور لاکھوں افراد نے اس آتش بازی کا نظارہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیویارک کے ٹائم سکوائر میں روایتی جوش و جذبے سے سال نو کا والہانہ استتقبال کیا گیا

اس کے علاوہ دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ اور لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے آتش بازی کے شاندار مظاہرے کیے گئے۔ لندن میں یہ آتش بازی دیکھنے کے لیے ڈھائی لاکھ افراد جمع تھے۔

برطانیہ میں نیا سال بڑے تہواروں کا سال ہے اور دو ہزار بارہ ملکہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے علاوہ لندن میں اولمپکس مقابلوں کے انعقاد کا بھی سال ہے۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں پیش آنے والے مشکل اقتصادی حالات کا اثر یورپی ممالک کے سربراہان کے سالِ نو کے پیغامات میں بھی دکھائی دیا ہے۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ دو ہزار بارہ گزشتہ برس کی نسبت زیادہ مشکل ثابت ہوگا تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپ کا اقتصادی بحران اس براعظم کے ممالک کو مزید قریب کر دے گا۔

فرانس میں یہ سال انتخابات کا سال ہے اور اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر سرکوزی نے کہا ہے کہ ’ہمیں حوصلہ مند بننے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے تناظر میں دو ہزار بارہ خطرات اور مواقع دونوں سے بھرپور سال ہوگا‘۔

اسی بارے میں