ایران: میزائل تجربات میں تاخیر

ایران میزائل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے

ایرانی بحریہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر محمود موسوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آنے والے دنوں میں میزائل داغنے کی مشقیں کرے گا۔

بحریہ کے کمانڈر کا یہ بیان اس سے پہلے ایرانی حکام کی ان اطلاعات کے متضاد ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے طویل فاصلے تک ہدف کو نشانے بنانے والے میزائل تجربات کیے ہیں۔

تاہم اس کے بعد ایران نے ان اطلاعات کو رد کر دیا ہے کہ اس نے خلیج میں فوجی مشقوں کے دوران طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے اس تجربے کی خبر دی تھی۔

ایران نےگزشتہ ہفتے سے بحری مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ یہ مشقیں بین الاقوامی پانیوں میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہورہی ہیں اور دس دن تک جاری رہیں گی۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں۔ جب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے جوہری پروگرام سے متعلق نئی پابندیاں نافذ کی گئیں تو وہ تیل کی برآمدگی کے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو بند کردے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ماننا ہے کہ ایران اپنے ملک میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے لیے اسے جوہری تکنیک کی ضرورت ہے۔

ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی مہر کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مذاکرات کار سعید جلیلی یورپی یونین کے خارجہ معاملات کے چیف کو اس بارے میں لکھنے والے ہیں کہ ایران جوہری مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لینے کا خواہش مند ہے۔

حال ہی میں مغربی ممالک نے ایران پر نئی پابندیاں اس وقت عائد کی تھیں جب نومبر ميں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے سے متعلق ٹیسٹ کیے ہیں ۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا رحیمی نے کہا تھا کہ اگر ایران پر مزید پابندیاں لگائي گئیں تو آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ایک بوند بھی نہیں جانے دی جائے گی جبکہ ایرانی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ بند کرنا نہایت آسان ہوگا۔

اسی بارے میں