نائجیریا:قبائلی تصادم میں پچاس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ے ایبوني کی حکومت نے اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے

افریقی ملک نائجیریا کے مشرقی علاقے میں دو قبائل کے مابین تصادم میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

نائجیرین حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق یہ پرتشدد جھڑپیں ایبونی نامی ریاست میں ہوئی ہیں جہاں زمین کے تنازع پر ازّا اور ازیلو نامی قبائل میں لڑائی ہوئی ہے۔

دونوں قبائل کے درمیان زمین کا یہ تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔ مشرقی نائجیریا میں جہاں کھیتی باڑی ہی بیشتر آبادی کا ذریعۂ معاش ہے ، زیادہ سے زمین پر حق بہت معنی رکھتا ہے۔

حالات پر قابو پانے کے لیے ایبوني کی حکومت نے اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پرتشدد جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب نائیجریا کے صدر جوناتھن گڈ لک نے ملک کے کئی حصوں میں ریاستی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ کرسمس کے موقع پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے بم حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

تاہم حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ اس تشدد کا کرسمس پر ہونے والے بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نائجیرین حکومت نے اسلامی شدت پسند گروہ بوكو حرم کو ان دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

لاگوس سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تازہ فسادات سے صدر گڈلك کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

صدر جوناتھن گڈلک نے فوج سے کہا ہے کہ وہ ضروری اقدامات کرے جن میں ایک نئی انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام شامل ہے۔

نائیجریا میں کشیدگی کا شکار ریاستوں کی بین الاقوامی سرحوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائجیریا میں کرسمس کے موقع پر ہونے والے حملوں میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے

اس سے پہلے صدر نے دارالحکومت ابوجا میں اس کیتھولک چرچ کا تفصیلی دورہ کیا جہاں دھماکے میں سینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صدر جوناتھن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایمرجنسی کا اعلان کیا اور حکم دیا کہ تمام سرحدوں کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ شدت پسند تنظیم، ہمسایہ ملکوں میں نہ پھیل سکے۔

خطاب میں نائیجیریا کے صدر کا کہنا تھا ’نائیجیریا کے تمام لوگ مل کر اس شدت پسندی کے ساتھ لڑیں گے اور بوکوحرم کو کُچل دیں گے۔ ہمیں علم ہے کہ دیگر ملکوں میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ دہشتگردی عالمی وباء ہے جسے مشترکہ کوششوں کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔ آج سے ہم بوکوحرم کے خلاف مختلف حربوں اور مختلف حکمتِ عملی کے ساتھ لڑیں گے‘۔

صدر نے بوکوحرم تنظیم کو ایسا سرطان قرار دیا جو نائیجیریا کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

دارالحکومت ابوجا کے مضافات میں کرسمس تقریبات کے دوران ہونے والے بم دھماکوں میں تقریباً چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی جبکہ نائجیریا کہ صدر گُڈلک جوناتھن نے ان حملوں کو ملکی آزادی پر حملے قرار دیا تھا۔

نائجیریا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ نائجیریا میں سرگرم مسلح گروہ بوکو حرم نائجیریا میں اسلامی شرعی نطام نافذ کرنا چاہتا ہے۔

بوکوحرم کو نائجیریا میں ہونے والے درجنوں بم دھماکوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے سال دو ہزار دس کے دوران ابوجا میں دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی جس میں نائجیریا میں ہونے والا پہلا خودکش حملہ بھی ہے۔ اس حملے میں نائجیریا میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا اور تیئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں