بحرین میں نوجوان کی ہلاکت پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلاک ہونے والے نوجوان کے جنازے میں شریک افراد نے حکبومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔

بحرین میں پولیس نے ایک پندرہ سالہ لڑکے کے جنازے کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

بحرین میں حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان سکیورٹی فورسز کی جانب سےفائر کیا گیا آنسو گیس کا گولہ سر پر لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔

بحرین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا سکیورٹی فورسز کے خلاف پٹرول بم کے حملے میں شامل تھا اور اسی دوران جُھلس گیا۔

بحرین مںی گذشتہ چند ماہ سے مسلسل پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں جس کی وجہ سے ملک کی شیعہ اکثریت میں سنی حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

سیّد ہاشم سعید نامی اس نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نوجوان کے جنازے کے بعد شرکاء نے احتجاج شروع کر دیا جس کے بعد پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مرنے والا نوجوان سکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے ایک پٹرول بم حملے میں شامل تھا۔

بحرین میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں ہونے والے احتجاج کے بعد حکومتی کریک ڈاؤن میں چالیس افراد ہو گئے تھے۔

بحرین میں سال دو ہزار گیارہ کے دوران مظاہروں میںشریک ایک ہزار چھ سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اسی بارے میں