بنٹلی گاڑیوں کی فروخت میں سینتیس فیصد اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مہنگی گاڑیاں بنانے والی کمپنی بنٹلی کے مطابق دو ہزار گیارہ میں اس کی بنائی گئی گاڑیوں کی فروخت میں سینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی گاڑیوں کی طلب عالمی معاشی بحران سے پہلے والی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

برطانوی کمپنی نے دو ہزار گیارہ میں سات ہزار تین گاڑیاں بیچیں جن کی قیمت ایک لاکھ تینتیس ہزار پونڈ سے شروع ہوتی ہے۔

بنٹلی کے لیے سب سے مفید ملک ایک بار پھر امریکہ ثابت ہوا جہاں بتیس فیصد کے اضافے کے ساتھ دو ہزار اکیس گاڑیاں فروخت کی گئیں۔

دوسرے نمبر پر آنے والا ملک چین تھا جہاں ایک ہزار آٹھ سو انتالیس گاڑیاں بیچی گئیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا ہیں۔

بنٹلی کے چیرمین اور چیف ایکزیکٹو ولف گینگ دوئرہیمر کا کہنا تھا کہ بنٹلی کے لیے نئی اور ابھرتی مارکیٹوں میں دلچسپی خوش آئیند ہے اور یہ سب دو ہزار گیارہ کے مثبت معاشی نتائج کا حصہ بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ کامیابی جاری رہے۔ دو ہزار بارہ میں نئے کوٹینینٹل وی ایٹ ماڈل سے نئے صارفین میں دلچسپی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے اونچے مگر حقیقت پسندانہ عزائم ہیں جو کہ عالمی معاشی حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

دسمبر دو ہزار گیارہ میں ان گاڑیوں کی فروخت میں دسمبر دو ہزار دس کی نسبت انہتر فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی وجہ اکتوبر کے مہینے میں پیش کیا جانے والا نیا کونیٹینٹل جی ٹی سی ماڈل بتایا جاتا ہے۔

دسمبر کا یہ مہینہ دو ہزار سات کے بعد بنٹلی کے لیے بہترین مہینہ رہا جبکہ کمپنی کی تاریخ کا یہ دوسرا بہترین مہینہ تھا۔

تاہم کمپنی کام کرنے والوں کی یونین کے ساتھ تنخواہوں کے مسئلے پر مذاکرات کر رہی ہے۔ دسمبر میں بنٹلی کی کروو میں واقع فیکٹری کے ملازمین نے دو سالہ معاہدے کو مسترد کر دیا تھا۔ یونائٹ نامی یونین نے دو ہزار سات سو کارکنوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تنخواہوں میں پہلے سال چار فیصد اور اگلے سال تین فیصد کے اضافے پر رضامند ہو جائیں۔

اسی بارے میں