انڈونیشیا:جوتا چور کو قید کی سزا

انڈونیشیا میں ایک نوجوان کو پرانا جوتا چوری کرنے پر مجرم قرار دینے کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انڈونیشیاکی ایک عدالت نے پندرہ سالہ نوجوان کو پرانے سینڈل کا ایک جوڑا چوری کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے اور نوجوان کو پانچ سال کے لیے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

پندرہ سالہ نوجوان نے عدالت کو بتایا کہ اس نے ایک بورڈنگ ہاؤس کے باہر اتارے گئے سینڈل کے اس جوڑے کو اس لیے پہن لیا تھا کہ کوئی اسے چھوڑ گیا ہے۔ چھ مہینے بعد پولیس نے اسے جوتا چوری کے الزام میں رفتار کر لیا اور الزام لگایا گیا کہ اس نے ایک پولیس اہلکار کا جوتا چوری کیا ہے۔

انڈونیشیا میں لوگوں نےاس پولیس سٹیشن کے باہر جوتوں کے ڈھیر لگانا شروع کر دیئے جہاں نوجوان کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انڈونیشیا کے جزیرے سولیویسی میں عدالت جب نوجوان کے خلاف فیصلہ سنا رہی تھی تو عدالت میں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ عدالتی فیصلہ سنتے ہی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ عدالتیں بااثر کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کرتیں جبکہ ایک نوجوان کو جوتا چوری کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔