’بحرالکاہل میں طاقت کی نمائش نہ کریں‘

امریکی صدر اوباما تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صدر اوباما نے نئی امریکی حکمت عملی میں بحرالکاہل کے خطے کو اہم ترین قرار دیتے ہوئے وہاں امریکی موجودگی میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے گزشتہ روز امریکی دفاعی حکمت کے اعلان کے بعد خبردار کیا ہے کہ امریکہ بحرالکاہل کے خطے میں اپنی فوجی قوت کے مظاہرے سے گریز کرے۔

امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ روز محکمۂ دفاع یا پینٹاگان میں فوج کی تعداد میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ کا عشرہ گزر گیا ہے اور امریکہ کواب معاشی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ بحرالکاہل میں اپنی طاقت میں اضافہ کرے گا۔

اپنے ایک اداریے میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی زنہوا نے بظاہر بحرالکاہل کے خطے میں امریکی موجودگی میں اضافے کےاعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے استحکام اور خوشحالی میں اضافے کے لیے خوش آئند بتایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی خبردار کیا کہ امریکی جنگی انداز خطے میں ناراضی پیداکرسکتا ہے اور امن کو متاثر کرسکتا ہے۔

دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کے عمل میں فوج کی تعداد اور اس کے لیے دستیاب وسائل میں کمی کے منصوبوں کے باوجود بھی صدر اوباما نے بحرالکاہل میں امریکی موجودگی میں اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ بجٹ کٹوتیاں اس اہم ترین خطے کو نظرانداز کرنے کی قیمت پر نہیں کی جائیں گی۔

اسی حوالے سے زنہوا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اگر امریکہ نے اس طاقت کے مظاہرے کو تھوپنے کی کوشش کی تو اس سے علاقائی تنازعات کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

گزشتہ روز امریکی دفاعی حکمت کے اعلان کے بعد سے چین کی حکومت اور وزارت خارجہ نے ابھی تک کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن ملک کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار گلوبل ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکہ چین کے عروج کو روک نہیں سکتا ہے۔ چین کو چاہیے کہ وہ امریکی بحریہ کو باز رکھنے کے لیے مزید دورمار ہتھیار تیار کرے۔

امریکی دفاعی حکمت عملی میں توجہ کا محور بحرالکاہل کے خطے کو قراردیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ایک طویل عرصے تک امریکی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ امریکی فوج کو بیک وقت دو جنگیں لڑنے کے لیے تیار رکھنا رہا تھا۔

نئی حکمت عملی کے نتیجے میں کہاں کہاں اور کتنی کٹوتی ہوگی، اس کی تفصیلات آئندہ برس سامنے آئیں گی۔

اسی بارے میں