دمشق میں خودکش حملہ، دس ہلاک

دمشق میں بس پر بم حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دمشق میں تازہ ترین بم حملہ پےدرپے بم دھماکوں کے بعد ہوا ہے جن میں چوالیس لوگ مارے گئے تھے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق دارالحکومت دمشق میں ایک خودکش بم حملے میں درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکہ دارالحکومت کے میدان نامی علاقے میں ہوا جو پچھلے کئی ماہ سے صدر بشارالاسد کی حکومت کےخلاف احتجاج کا گڑھ بنا ہوا ہے اور حزب اختلاف کے مطابق سرکاری دستوں نے وہاں مسلسل طاقت کا استعمال بھی کیا ہے۔

عرب لیگ کا مبصر مشن بھی اس وقت شام کا دورہ کررہا ہے تاکہ اس ات کا جائزہ لیا جاسکے کہ بشارالاسد حکومت نے وعدے کے مطابق حزب اختلاف کے خلاف کارروائی روکی یا نہیں۔

حکومت نے اس خودکش حملے کے لیے دہشت گردوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر دھماکے کے بعد خون آلود سڑکیں دکھائی گئی ہیں جبکہ ایک خون آلود اور تباہ دہ بس کی تصاویر بھی دکھائی دے رہی ہے جو بظاہر پولیس اہلکاروں کو لے جانے والی بس تھی۔ لیکن بم دھماکے میں عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکے کا ہدف عام شہری اور وہ لوگ تھے جو خود کو محفوظ سمجھتے تھے۔

شامی ٹیلی ویژن کے دعووں کی تصدیق نہی کی جاسکی کیونکہ حکومت نے ملک میں بیرونی صحافیوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

تازہ ترین بم حملہ بم دھماکوں کی ایک لہر کے بعد ہوا ہے جس میں چوالیس لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

حزب اختلاف نےان بم حملوں کے لیے حکومت پرالزام عائد کیا تھا تا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نام پرحزب اختلاف کے خلاف تشدد کا جواز پیدا کیاجاسکے۔

اسی بارے میں