نائجیریا: شدت پسند تنظیم بوکوہرام کی شناخت

نائجیریا کا مسلح مذہبی گروہ بوکوہرام، جس نے ملک میں بم دھماکوں کا ایک سلسلے شروع کیا ہوا ہے، حکومت کا تختہ الٹنے اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے لڑ رہا ہے۔

بوکوہرام اسلام کے ایک ایسے روپ کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔

اس میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہنا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنی بھی شامل ہیں۔

اگرچہ نائجیریا کے صدر ایک مسلمان ہیں تاہم بوکوہرام کے خیال میں نائجیریا کی ریاست کو غیر مسلم چلا رہے ہیں۔

بوکوہرام کے رہنماء محمد یوسف کو گرفتار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

شمالی نائجیریا، نائیجر اور جنوبی کیمرون پر سوٹوکو خلافت کی حکومت تھی۔ انیس سو تین میں برطانیہ نے سوکوٹو خلافت کو شکست دے کر ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور مغربی تعلیم کے خلاف مہم اس وقت سے ہی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بہت سے مسلمان اپنے بچوں کو مغربی طرز کے سرکاری سکولوں میں نہیں بھیجتے۔

ان حالات میں ایک مسلم مذہبی عالم محمد یوسف نے سنہ دو ہزار دو میں بوکوہرام کی بنیاد میدوگری کے شہر میں رکھی۔ انہوں نے ایک مسجد بنائی جس کے احاتے میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔

نائجیریا اور ہمسایہ ممالک کے بہت سے غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کو اس سکول بھیجا۔

لیکن بوکوہرام کی دلچسپی صرف تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سیاسی ہدف ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا اور یہ سکول حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے جہادیوں کو بھرتی کرنے کی جگہ بن گیا۔

سنہ دو ہزار نو میں بوکوہرام نے میدوگری میں پولیس سٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے اور اس شہر میں ہنگامے ہونے لگے۔ بوکوہرام کے سینکڑوں حمایتی ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں شہری شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

حکومتی فورسز نے بلآخر بوکوہرام کے مرکزی دفاتر پر قبضہ کر لیا اور لڑنے والوں کو گرفتار کیا جبکہ محمد یوسف ہلاک کر دیے گئے۔ اس موقع پر حکومت نے بوکوہرام کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا۔

لیکن بوکوہرام کے جنگجو ایک نئے سربراہ کے ساتھ پھر اکٹھے ہوئے۔ سنہ دو ہزار دس میں انہوں نے میدوگری میں ایک سرکاری جیل پر حملہ کیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو رہا کرا لیا۔

بوکوہرام نے پچھلے کچھ عرصے میں بہت سے حملے کیے ہیں جن میں نہ صرف سرکار کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ دوسرے مسلک کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ بوکوہرام کے بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ گروہ پھر سے فعل اور مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

بوکوہرام کے بین الاقوامی اداروں کے دفاتر پر حملوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکی کانگریس کی جاری کردہ ایک رپورٹ نے اس گروہ کو علاقے میں امریکی مفادات کے منافی قرار دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بوکوہرام القاعدہ سے تعلقات قائم کر رہا ہے جبکہ بوکوہرام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی نائجیریا کی تاریخ میں بوکوہرام جیسے گروہ ملتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف اس صورت میں ٹل سکتا ہے اگر حکومت اس علاقے کی شدید غربت کم کر سکے اور ایک ایسا تعلیمی نظام بنائے جس کو مقامی مسلمانوں کی حمایت ہو۔

اسی بارے میں