شام: ’تین روز میں سو ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اتوار کو گیارہ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تین روز میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔

دریں اثناء عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شام میں اپنےمشن کی پیشرفت پر غور کر رہے ہیں اور وہ یہ بھی فیصلہ کریں گے کہ آیا اقوام متحدہ کی مدد طلب کی جانی چاہیے یا نہیں۔

شام میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ وہاں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو جانے کی اجازت نہیں۔

شام سے فوجیوں اور فوج سے بھاگ جانے والوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو شام میں حزبِ اختلاف کے گروپوں کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کے مطابق حمص شہر میں آٹھ ،ادلیب میں تیرہ، حما میں ایک اور دمشق کے گردو نواح میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

عرب لیگ کے مبصرین کی شام آمد کے بعد متعدد افراد پر تشدد واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب شام کے دارالحکومت دمشق میں صدر بشار الاسد کے ہزاروں حامیوں نے جمعے کے روز ہوئے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

شام کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ دہشتگردی کے ذمہ داروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

جمعے کو دمشق کےعلاقے میدان میں ہونے والے بم دھماکےمیں چھبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بعض سکیورٹی اہلکار تھے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میدان کی ایک مسجد میں ادا کی گئی۔ مرنے والوں کے تابوت ایمبولینسوں میں اس مسجد میں لائے گئے جہاں دھماکہ ہوا تھا۔ جب مرنے والوں کے تابوت میدان کی مسجد میں لائے جا رہے تھے تو قریبی سڑکوں پر ہزاروں افراد کھڑے تھے اور صدر بشار الاسد کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

بعض شرکاء نعرے بلند کر رہے تھے ’ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔‘ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ دس ماہ سے جاری احتجاج میں اب تک پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام کی حکومت ان اعداد و شمار کی تردید کرتی رہی ہے۔

شام کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف ہونے والے دہشتگرد حملوں کا جواب آہنی ہاتھوں سے دیا جائے گا۔

وزیرِ داخلہ ابراہیم نے کہا ’جو بھی ملک اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے خلاف قدم اٹھائے گا اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘

دوسری جانب حزبِ مخالف کا الزام ہے کہ یہ دھماکہ خود حکومت نے کروایا ہے تاکہ عرب لیگ کے مبصرین کے سامنے اپنے مخالفین کی ساکھ خراب کی جا سکے۔

شام کےحزب مخالف کے اتحاد ایس این سی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ دھماکہ بشار الاسد کی حکومت نے خود کروایا ہے اور یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایس این سی نے کہا شام کی حکومت ان گھٹیا ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کے احتجاج سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

امریکہ نے بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کے مسائل کا حل تشدد میں نہیں ہے۔

دو ہفتے قبل اسی طرح کے ایک بم دھماکے میں چوالیس ا فراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت نے دھماکہ کی ذمہ داری دہشتگردوں پر عائد کی تھی جبکہ حکومت کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ایسا اپنے مخالفیں کو بدنام کرنے کی کوشش میں کر رہی ہے۔