شام میں نگرانی مشن جاری رہے گا، عرب لیگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب لیگ نے قطر کی طرف سے اقوام متحدہ کے ماہرین کو عرب لیگ نگرانی مشن میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا

قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں شام کے لیے عرب لیگ کے نگرانی مشن میں اقوام متحدہ کے ماہرین کو شامل کرنے کی تجویز کو رد کر دیا گیا۔

عرب لیگ نے شام سے کہا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کے خلاف تشدد سلسلہ روک اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ عرب لیگ نے کہا ہے کہ وہ شام میں نگرانی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

بعض حلقوں کی طرف عرب لیگ کے مبصرین پر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ بے اثر ہیں اور ان کی شام میں موجودگی کے دوران حکومتی ادارے مظاہرین کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عرب لیگ کا مشن جنوری کے آخر تک اپنی اگلی رپورٹ دے گا۔ عرب لیگ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں قطر نے تجویز پیش کی تھی کہ اقوام متحدہ کو نگرانی کے مشن میں ’اقوام متحدہ کے ماہرین‘ کو شامل کیا جائے لیکن اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لیون نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے مشن پر مزید تنیقد ہو سکتی ہے۔ شام میں حزب مخالف الزام لگاتی رہی ہے کہ عرب لیگ کا مشن صدر بشار الاسد کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور بلکل غیر موثر ثابت ہوا ہے۔

ادھر شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو گیارہ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تین روز میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔

شام میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ وہاں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو جانے کی اجازت نہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو شام میں حزبِ اختلاف کے گروپوں کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کے مطابق حمص شہر میں آٹھ ،ادلیب میں تیرہ، حما میں ایک اور دمشق کے گردو نواح میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

عرب لیگ کے مبصرین کی شام آمد کے بعد متعدد افراد پر تشدد واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔