’رہنماعوام کی بغاوت کو سمجھ نہیں پائے‘

Image caption عرب سپرنگ کے نام سے پہچانے جانے والی یہ بغاوت پورے خطے میں پھیل گئی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ عرب دنیا کے رہنما اب تک حالیہ عوامی تحریک یا بغاوت کی شدّت کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے ہیں۔

انسانی حقوق کی اس تنطیم کا کہنا تھا کہ عرب خطے میں تبدیلی لانے کے لیے مظاہرین کے افعال بین الاقوامی دباؤ سے کہیں زیادہ موثر ہیں۔

تاہم تنظیم نے خبردار کیا کہ رواں برس بھی کئی عرب رہنما اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں کو دبانے کی کوشش کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق عرب دنیا میں جاری عوامی تحریک یا تبدیلی کی لہر پر بین الاقوامی اداروں جیسا کہ یورپی یونین اور عرب لیگ کا ردِ عمل بھی ایک جیسا نہیں تھا۔

عرب سپرنگ کے نام سے پہچانے جانے والی یہ تحریک پورے خطے میں پھیل گئی ہے۔

بڑے پیمانے پر کئے جانے والے مظاہروں نے پہلے تیونس کے صدر زین العابدین بن علی اور پھر مصر کے حسنی مبارک کا تختہ الٹا، اس کے ساتھ ساتھ یہ لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدار اور زندگی دونوں کے خاتمے کی وجہ بنا۔

اب یہی مظاہرے شام میں صدر بشالاسد کے خلاف جاری ہیں، اسی دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کئی مہینوں کی بدامنی کے بعد اقتدار سے الگ ہونے پر راضی ہوگئے ہیں۔

لیکن اس رپورٹ ’بغاوت کا سال، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں انسانی حقوق کی صورتحال‘ میں کہا گیا ہے کہ بعض عرب رہنما کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قابض رہنا چاہتے تھے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ڈائریکٹر فلِپ لوتھر کا کہنا تھا کہ ’چند معاملات میں حکومتیں یہ سمجھنے میں ناکام رہیں کہ ہر چیز بدل چکی ہے۔ ‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لیبیا، تیونس اور مصر میں جمہوریت کو اب بھی مضبوط ہونا باقی ہے جبکہ شام جہاں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں وہاں حکام اقتدار بچانے کے لیے تمام سخت حربے استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں