عراق میں کار بم دھماکے، چودہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق میں جمعرات کو ہونے والے دھماکوں میں بھی بہتر افراد ہلاک ہوئے تھے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں دو کار بم دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اہلکاروں کا کہنا ہےکہ ایک بم دھماکہ شہر کے مغربی علاقے مواصلات میں واقع شیعہ مسئلک کی مسجد میں ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ شہر کے ضلع شاب میں ہوا جہاں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے۔

دونوں دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شیعہ مسئلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اِن دھماکوں میں باون افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شیعہ زائرین کربلا کی جانب سفر کررہے ہیں جہاں وہ امام حسین کے اربعین میں شرکت کریں گے۔

مقامی اہکاروں کا کہنا ہے کہ اویریج نامی قصبے میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے کربلا کی جانب جانے والے زائرین نشانہ بنے جن میں سے ایک ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ حِلہ شہر کے وسط میں بھی دو دھماکے ہوئے جن میں پندرہ کے قریب زائرین زخمی ہوگئے۔

جمعرات کو بغداد اور ناصریہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں بہتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں بھی شیعہ افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ دھماکے ایسے وقت ہورہے ہیں جب گزشتہ ماہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سے حکمراں شیعہ جماعت اور سنی حزبِ اختلاف کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

عراق میں مخلوط حکومت نے گزشتہ ماہ سنی رہنماء طارق الہاشمی کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان وارنٹ کے اجراء کے بعد سے حکومت مشکلات کا شکار ہے۔ طارق الہاشمی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔

پارلیمان میں سنیوں کا کلیدی گروپ العراقیہ اسمبلی کی کارروائی کا احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کررہا ہے۔ اس نے وزیراعظم نوری المالکی پر اختیارات کے ارتکاز کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں