انور ابراہیم اغلام بازی کے مقدمے سے بری

آخری وقت اشاعت:  پير 9 جنوری 2012 ,‭ 04:51 GMT 09:51 PST
انور ابراہیم

انور ابراہیم پر اغلام بازی کے الزام کے تحت دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔

ملائیشیا میں حزبِ اختلاف کے رہنما انور ابراہیم اپنے مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کے الزام سے بری ہو گئے ہیں۔

ان پر اس الزام کے تحت دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔

جج ذبی دین دیاح کا کہنا تھا کے استغاثہ کی جانب سے جمع کروائے گئے ڈی این اے کے شواہد قابلِ بھروسہ نہیں ہیں اس لیے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔

چونسٹھ سالہ انور ابراہیم مسلسل خود پر لگائے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور اسے حکومت کی جانب سے اُن کے ارادوں کو متزلزل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ملائشیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی عدالتیں حکومتی دباؤ سے آزاد ہیں۔

ملائیشیا کی مسلم اکثریت میں اغلام بازی قانوناً جرم ہے لیکن اس الزام کے تحت بہت کم لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔

انور ابراہیم پر ان کے سابق ملازم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا الزام تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو انہیں بیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔لیکن جج کا کہنا تھا کہ ڈی این اے رپورٹ کے صحیح ہونے پر شبہ پایا جاتا ہے۔

جج نے کہا’عدالت ہمیشہ جنسی الزامات کے مقدمے میں کافی ثبوتوں کی عدم موجودگی میں سزا دینے سے گریز کرتی ہے۔ اس لیے ملزم پر الزام ثابت نہیں ہوتا اور مقدمہ برخاست کیا جاتا ہے۔‘

انور ابراہیم کی بیوی، بیٹیوں اور ان کے حامیوں نے عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

انور ابراہم نے صحافیوں سے بات کرے ہوئے کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ انصاف کا جیت ہوئی اور میں صحیح ثابت ہوا۔‘

’سچ کہوں تو میں تھوڑا حیران بھی ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔