’لیبیا نے آئی سی سی کو جواب نہیں دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جرائم کی عالمی عدالت کا کہنا ہے کہ لیبیا نے سابق لیبیائی رہنما کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی صحت اور حوالگی کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے اس ضمن میں لیبیا کو دی جانے والی مہلت منگل کو ختم ہو رہی ہے۔

انتالیس سالہ سیف الاسلام جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں اور عدالت سرکاری طور پر چاہتی ہے کہ آیا لیبیا کا سیف الاسلام کو اس کے حوالے کیے جانے کا کوئی منصوبہ ہے کہ نہیں۔

جرائم کی عالمی عدالت کو اگر لیبیا کی جانب سے کوئی جواب نہیں آتا تو وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیجا سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ سیف الاسلام نے حقوق انسانی کی تنطیم ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ دوران حراست ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک انھیں وکیل مہیا نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

سیف الاسلام سے ملاقات کرنے والے نمائندے فرید ابراہیم کا کہنا ہے کہ’سیف الاسلام ابھی تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ اب لیبیا کے طاقت وار ترین لوگ نہیں رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جرائم کی عالمی عدالت کے چیف پراسیکوٹر لوئس مورینو اوکیمپو نے اپنے نائب کے ہمراہ لیبیا کا دورہ کیا تھا۔

اس دروے کا مقصد لیبیاء کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ سیف الاسلام کو عالمی عدالت کے حوالے کر دے جہاں ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے مقدمہ چلایا جا سکے۔

اس سے پہلے لیبیا کے وزیر انصاف محمد اللغوئی نے بیان کہا تھا کہ انہیں حوالے نہیں کیا جائیگا۔ ’ ہم انہیں کسی کے حوالے کرنے نہیں جا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں