امریکہ میں شادیوں میں کمی کا رجحان

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption اس وقت تقریبا اکاون فیصد امریکی شہری شادی شدہ ہیں

امریکہ میں ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار امریکہ میں بھی جلد ہی غیر شادی شدہ لوگ کی تعداد شادی شدہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یُوں تو تقریباً سبھی مغربی ممالک میں شادی کے رجحان میں کمی آئی ہے لیکن امریکہ میں اس میں نسبتاً زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔

تحقیق کرنے والے ادارے ’دی پیو سینٹر‘ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں سنہ انیس سو ساٹھ میں تقریباً بہتر فیصد لوگ شادی شدہ تھے جبکہ سنہ دو ہزار دس میں صرف اکاون فیصد ہی شادی شدہ تھے۔ اس تحقیق کے مطابق دو ہزار نو اور دس میں تقریباً تیزی سے پانچ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا میں سماجیات کے پروفیسر اور نیشنل میریج پروجیکٹ کے ڈائریکٹر براڈ فورڈ ولکوکس کہتے ہیں کہ ’میرے خیال سے سے ہم اب اُس دور میں ہیں جہاں زندگی میں شادی کی یا پھر قوم کے لیے بچوں کی زندگي سنوارنے کو زیادہ اہمیت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔‘

اس وقت امریکہ میں لوگ شادی کے لیے زیادہ انتظار کرتے ہیں اور اوسطاً خواتین ساڑھے چھبیس برس میں جبکہ مرد تقریباً اٹھائس برس میں شادی کرتے ہیں اور اگر شادی نہ کی تو تنہا رہنے کو پسند کرتے ہیں یا جن کی طلاق ہو جاتی ہے وہ دوبارہ شادی نہیں کرتے۔

برطانیہ میں بھی اوسطاً تیس برس کی عمر تک پہنچنے کے بعد ہی خواتین شادی کرتی ہیں جبکہ مرد بتیس برس کے بعد شادی کرتے ہیں اور ان دونوں ہی ملکوں میں اس دور میں شادیوں میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ طلاق بھی امریکہ میں ہی ہوتی ہیں اور شادیوں میں کمی کی ایک وجہ اتنی بڑی تعداد میں شادیوں کا ٹوٹنا بھی ہے۔ اس سے بہت سے نوجوانوں میں شادی سے متعلق جو روایتی سوچ تھی اس پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

ریان رومینی اور ان کے دوست سیتھ گزشتہ چھ برسوں سے ایک ساتھ ہی رہتے ہیں لیکن وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رومینی کہتی ہیں کہ ’سیتھ کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں طلاق کا رجحان رہا اور انہوں نے اس سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں کو متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک دس برس ساتھ میں گزار نہیں لیں گے تب تک وہ شادی کے خیال کا بھی تصور نہیں کر سکتے، میرا کہنا ہے جب تک ہم خوش ہیں تب تک ساتھ رہیں گے۔ میرے والدین تو شادی شدہ ہیں لیکن پھر بھی مجھے اس سے ڈر لگتا ہے کیونکہ ہم نے دوستوں کو طلاق سے پریشان دیکھا ہے۔‘

دی پیو سینٹر کا کہنا ہے کہ شادی میں کمی کا رجحان ان لوگوں میں زیادہ ہے جو کم پڑھے لکھے ہیں بہ نسبتاً ان لوگوں جو کالج کے گریجویٹ ہیں۔

اس کے مطابق یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ تقریباً دو تہائی امریکی یعنی چونسٹھ فیصد شادی شدہ ہیں جبکہ جو صرف ہائی سکول تک پڑھے ہیں وہ صرف سینتالیس فیصد ہی شادی شدہ ہیں۔

اس کے بالکل برعکس انیس ساٹھ کے دور میں امریکہ میں زیادہ پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھوں میں شادی کرنے کا رجحان برابر تھا۔

براڈ فورڈ ولکوکس کا کہنا ہے کہ ’کالج سے تعلیم یافتہ افراد میں اس بات کی سمجھ بڑی ہے کہ شادی دراصل اچھا نظریہ ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ اس بارے میں کھل کر بات نہ کرنا پسند نہ کرتے ہوں۔‘

اسی بارے میں