ڈھاکہ، جماعتِ اسلامی کے سابق رہنما گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بنگلہ دیش نے سنہ اکہتر میں جنگی جرائم کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں جماعتِ اسلامی کے سابق رہنما کو گرفتار کر لیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ 89 سالہ غلام اعظم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

انہوں نے اعظم پر 1971 میں انسانیت کے خلاف جرم کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا ہے۔تاہم اعظم کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی بنیادوں پر عائد کیے گئے ہیں۔

غلام اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کی حمایتی ملیشیا قائم کی تھی جس نے نو ماہ تک جاری رہنے والی جنگِ آزادی میں قتل و غارت کی۔

استغاثہ سید حیدر علی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’سنہ انیس سو اکہتر میں انسانیت کے خلاف جرائم کی منصوبہ بندی انہوں نے کی تھی۔‘

اعظم نے خراب صحت کی بنیاد پر انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست مسترد کردی گئی اور حکم دیا گیا کہ ان کو مقدمہ شروع ہونے تک قید رکھا جائے۔

یہ مقدمہ اگلے سال شروع ہونا ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال نومبر میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما دلاور حسین سیدی پر بھی مقدمہ چلایا گیا تھا۔ سیدی ان سات افراد میں سے پہلے تھے جن پر مبینہ طور پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں