برما میں کیرن باغیوں کے ساتھ جنگ بندی

برما میں کیرن باغی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیرن ریاست میں باغیوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے

حکام کے مطابق برما کی حکومت نے کیرن باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

سرکاری افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ کیرن ریاست میں باغیوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے۔

فریقین نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ مواصلاتی دفاتر کھولنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

مذاکرات میں کیرن باغیوں کے رہنما ڈیوڈ ہاؤ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 63 سالوں میں یہ پہلا تحریری معاہدہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں صرف اتنا ہی ممکن ہے اصل میں جو بات معنی رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کیسے ہو۔

بی بی سی کی جنوب مشرقی ایشیا کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ہوتا ہے لیکن یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ دونوں پارٹیوں نے کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کی تلخی کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

جمعرات کو برما کے سرکاری ٹیلی وثرن نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق 13 جنوری کو شروع ہونے والے عمل میں مزید قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ برما کے صدر نے تقریباً ایسے چھ سو قیدیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں رہا کیا جانا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا ان میں کوئی سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں