برما: اہم مزاحمتی رہنماؤں کی رہائی

برما رہا ہونے والے قیدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برما میں عام معافی کے تحت قیدیوں کی رہائی کے تازہ عمل کے تحت ملک کے سب سے اہم مزاحمتی رہنماؤں کو رہا کیا گیا ہے۔

رہا ہونے والوں میں 1988 میں طلبا کی احتجاجی تحریک کے متعدد رہنما 2007 کے احتجاجی مظاہروں میں شامل راہب اور نسلی اقلیتوں کا کارکن شامل ہیں۔

ان میں سب سے اہم 1988 کی ناکام بغاوت کے رہنما من کو نائنگ ہیں۔

ٹی وی پر جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر نے کہا کہ جن لوگوں کو رہا کیا گیا ہے وہ ملک کے سیاسی عمل میں مثبت رول ادا کر سکتے ہیں۔

قیدیوں کی رہائی پر ردِ عمل میں برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی عالمی برادری کے اہم مطالبات میں سے ایک تھی۔

ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کا یہ اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ برما کی حکومت اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اسی بارے میں