عراق: زائرین پر حملہ، درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق میں گزشتہ ہفتے شیعہ مسلمانوں پر بم حملوں میں کم از کم ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں حکام کے مطابق شیعہ زائرین پر ایک خودکش حملے میں پچاس سے زیادہ افراد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی پولیس اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین کے چہلم( اربعین) میں شرکت کے لیے آنے والے زائرین کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جائے وقوعہ پر موجود ایک پولیس اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ پولیس کی وردی میں ملبوس ایک دہشت گرد جس کے پاس پولیس کا شناختی کارڈ بھی تھا، پولیس چیک پوسٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں زائرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سات پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق خودکش حملہ ان شیعہ زائرین پر کیا گیا جو بصرہ شہر میں شیعہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مسجد کی جانب جا رہے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اربعین کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں شیعہ مسلمان مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں

خیال رہے کہ اربعین شیعہ مسلک کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس دنوں میں سے ایک ہے اور اس موقع پر بڑی تعداد میں زائرین مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

اربعین پر شدت پسندی کے واقعے کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ عراق میں گزشتہ چند ہفتوں سے شیعہ زائرین پر حملوں میں ستر کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق میں امریکی فوج کے انخلاء کے چند ہفتوں کے بعد ہی شدت پسندی کے واقعات شروع ہو گئے جب کہ ملک میں سیاسی بحران بھی جاری ہے۔

گزشتہ ماہ ملک میں شیعہ اکثریتی حکومت نے سنی مسلک کے نائب صدر طارق ال ہاشمی کو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں