عرب ممالک تیل کی پیداوار نہ بڑھائیں:ایران

تصویر کے کاپی رائٹ Isna

ایران نے اپنے ہمسایہ عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے پیشِ نظر اس کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی صورت میں تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ کریں۔

ایران کےاخبار روزنامہ شرق نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے تنظیم اوپیک میں ایران کے نمائندے محمد علی خطیبی کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عرب ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ تیل کی پیدوار بڑھانے کی صورت میں نتائج کے ذمہ دار وہ ہونگے۔

ایران کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور یورپی ممالک ایرانی خام تیل کی برآمدات پر پابندیاں لگانے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایرانی اہلکار محمد علی خطیبی کا کہنا ہے کہ’ عرب ممالک کو امریکہ اور یورپی ممالک سے تعاون نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان ممالک کی جانب سے اٹھایا جانے والے کسی بھی قدم کو دوستانہ اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا اور اگر ان ممالک نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں کی صورت میں تیل کی کمی پوری کرنے کا کوئی گرین سگنل یا مثبت جواب دیا تو صورت میں خطے میں آبنائے ہرمز کی بندش سمیت کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی بڑی ذمہ داری عرب ممالک پر عائد ہو گی۔

خیال ہے کہ جاپان، چین، جنوبی کوریا اور بھارت ایرانی تیل کے ایک بڑے خریدار ہیں اور ایران اپنا پچاس فیصد تیل ان ممالک کو فروخت کرتا ہے۔

امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں اس پر اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کے حوالے سے ان ایشیائی ممالک کی حمایت چاہتا ہے۔

بھارت اور چین کی تیز اقتصادی نشوونما کے تناظر میں ان ممالک کو تیل کی ترسیل کی زیادہ ضرورت ہے اور اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو ان ممالک کو دیگر ذرائع سے اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے گا

سرمایہ کاری کے تجزیہ کار کیر چنگ یونگ نے بی بی سی کو بتاتا کہ ایشیائی معیشتوں کے لیے مشرق وسطیٰ سے پائیدار اور مسلسل جاری رہنے والی تیل سپلائی بہت ضروری ہے اور ایران پر پابندیاں لگنے کی صورت میں ان ممالک کو کچھ عرصے کے لیے تیل ترسیل میں کمی رہے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیوں کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس سے خطے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکہ اور یورپی اتحاد کے ممالک ایران سے تیل خریدنے پر پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور ایران ان کوششوں کے جواب میں دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے گا۔

خلیج فارس کے اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کی تیل کی ضروریات کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے اور حال ہی میں اپنی دھمکی کے بعد ایران نے اس علاقے میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے کئی تجربات بھی کیے ہیں اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا بحری بیڑا اس علاقے میں دوبارہ نہ بھیجے۔

اسی بارے میں