برطانیہ میں شرعی قوانین کے استعمال میں اضافہ

برطانوی مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نظام میں عورتوں کے خلاف امتیاز برتا جاتا ہے

برطانیہ میں شرعی یا اسلامی قوانین کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں ہزاروں مسلمان اپنے مسائل ان ہی قوانین کے تحت حل کر رہے ہیں تاہم خواتین کے حقوق سے متعلق تنظیموں اور دیگر لوگوں کو اس پر اعتراض ہے۔

’بہن آپ صرف سچ بولیں کیونکہ اللہ آپ کا ہر لفظ سن رہا ہے، آپ ہم سے تو جھوٹ بول سکتی ہیں لیکن اللہ سے نہیں‘ یہ الفاظ اس شیخ کے ہیں جو وہ ایک عورت سے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنی اذدواجی زندگی میں خوش کیوں نہیں ہے۔

مشرقی لندن کے لیٹن علاقے میں اسلامک شرعی کونسل کا سب سے بڑا دفتر ہے۔ اس دفتر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں کونسل کے نمائندے شیخ ہاشم الحداد سے ایک خاتون ملنے آئی ہیں جو اپنے شوہر سے اسلامی طریقے سے طلاق لینا چاہتی ہیں اور ان کے شوہر نے ان کو طلاق دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ خاتون شیخ سے کہتی ہے کہ ’میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں کیونکہ میرا شوہر کبھی بھی گھر پر نہیں ہوتا، میں نے اس کے موبائل پر دوسری عورتوں کے پیغامات دیکھے ہیں اور وہ بچوں کی پرورش کے لیے مالی امداد بھی نہیں دیتا‘۔

اسلام میں مسلمان مردوں کے لیے طلاق حاصل کرنا آسان ہے لیکن اگر مرد طلاق دینے سے انکار کر دے تو عورت کو اپنی شادی ختم کرنے کے لیے شرعی عدالت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ایک تھنک ٹینک کی 2009 کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اس طرح کے کم سے کم 85 ادارے کام کر رہے ہیں۔

شیخ الحداد کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سے پانچ سالوں میں ہمارے یہاں آنے والے کیسوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

’ہر ماہ ہم اوسطاً دو سے تین سو کیس حل کرتے ہیں۔چند سال قبل یہ تعداد بہت کم تھی‘۔

برطانیہ میں یہ شرعی کونسلیں 1982 سے کام کر رہی ہیں جو صرف سول معاملات ہی کا حل نکالتی ہیں تاہم انہیں نہ تو کسی طرح کے قانونی اختیارات حاصل ہیں اور نہ ہی یہ کسی طرح کی پینالٹی لگا سکتی ہیں۔

28 سالہ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ کاروبار میں جب ان کے اپنے برطانوی مسملم پارٹنر کے ساتھ تنازع پیدا ہوا تو انہوں نے برطانوی عدالت کے بجائے شرعی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا۔

عمر شیخ کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف میرے اسلامک اصول پورے ہوتے تھے بلکہ برطانوی عدالتوں کے مقابلے یہاں فیصلہ بھی جلدی اور سستا ہوا۔ان کا کہنا تھا شرعی عدالت میں ان کے کچھ سو پاؤنڈ خرچ ہوئے جبکہ برطانوی عدالتی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ ہزاروں پاؤنڈ کا خرچا ہوتا۔

مسائل کے شرعی حل کی جانب لوگوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے برطانوی وکلا کی کئی کمپنیوں نے اسے فائدے کا کاروبار سمجھ کر لوگوں کو شرعی مسائل پر مشورے دینے شروع کر دیے ہیں۔

مسلم وکیل آئنہ خان اپنے پاس مشورے کے لیے آنے والوں کو برطانوی اور اسلامی قوانین دونوں ہی طرح سے مشورہ دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس بات پر حیرانی ہے کہ میرے پاس جو لوگ آتے ہیں وہ پچاس برس سے کم عمر کے لوگ ہیں جو برطانوی مسلمان تو ہیں لیکن اپنی اسلامی شناخت کو بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘

برطانیہ میں جہاں ایک جانب شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے وہیں انسانی حقوق سے متعلق گروپوں میں اس کی مخالفت زور پکڑ رہی ہے۔ ان کہنا ہے کہ اس نظام میں عورتوں کے خلاف امتیاز برتا جاتا ہے۔

عورتوں کے حقوق سے متعلق ایرانی اور کرد تنظیم اس سسٹم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہیں۔

اسی بارے میں